پردہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 87 of 222

پردہ — Page 87

عورتوں اور مردوں کی علیحدہ تنظیم کی باتیں ہونے لگ گئی ہیں۔دنیاوی معاشرے میں بھی اس بات کا احساس پیدا ہونا شروع ہو گیا ہے کہ عورت اور مرد کی علیحدہ شناخت اور علیحدہ رہنا ہی ٹھیک ہے۔جو ہم پر سیگر یکیشن (segregation) کا الزام لگاتے تھے ، اعتراض کرتے تھے اب خود یہ تسلیم کرنے لگ گئے ہیں کہ بعض جگہوں پر یہ علیحدگی ہونی چاہئے۔“ (www۔bbc۔com/news/entertainment-arts-40504452) پس ایک احمدی مسلمان عورت کو اس بات پر کامل یقین ہونا چاہئے کہ آخر کار ہماری تعلیم ہی کامیاب ہونے والی ہے اور عورت کی آزادی کے نام پر ان کی کوششیں ناکام و نامراد ہوں گی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہماری اس بارے میں رہنمائی کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ۔۔۔مردوں کی حالت کا اندازہ کرو۔مردوں کو بھی نصیحت کی اور ان کی حالت کا بھی بیان فرمایا کہ وہ کس طرح بے لگام گھوڑے کی طرح ہو گئے ہیں ، نہ خدا کا خوف رہا ہے، نہ آخرت کا یقین ہے۔دنیاوی لذات کو اپنا معبود بنا رکھا ہے۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 7 صفحہ 134 - 135۔ایڈیشن 1985 مطبوعہ انگلستان )۔۔۔یہ بات جو آپ نے فرمائی یہی بات اس عورت نے بھی کہی جو کنسرٹ آرگنائز کرتی ہے جس کے بارے میں ابھی میں نے بتایا کہ اس نے کہا کہ ہم اس وقت تک مردوں اور عورتوں کو اکٹھے نہیں رکھ سکتے جب تک مردوں کو یہ سمجھ نہ آ جائے اور ہمیں یہ یقین نہ ہو جائے کہ عورت کی کس طرح عزت کرنی ہے اور اپنے جذبات کو کس طرح قابو کرنا ہے۔آج ایک جگہ سے یہ آواز اٹھی ہے چاہے وہ ناچ گانے کی مجلس کی آواز ہی ہو، اس کے حوالے سے ہی ہو، کم از کم خیال تو آیا ان کو کہ مرد عورت کے ایک جگہ ہونے میں کس طرح کی برائیاں پیدا ہوسکتی ہیں اور پرده 87