پردہ — Page 86
پرده اپنی روایات جو مختلف قوموں کی تھیں، اسلامی مذہب کی نہیں قوموں کی روایات تھیں ، ان پر مذہب کا لبادہ پہنا کر عورت کو بالکل ہی بے وقعت بنا دیا۔اسی چیز کو بیان کرتے ہوئے ایک موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ یہ لوگ مذہب کے نام پر ظلم کرتے ہوئے عورت کو نہایت حقیر ، ذلیل چیز سمجھتے ہیں اور پاؤں کی جوتی سمجھتے ہیں حالانکہ اسلام تو عورت کے حقوق قائم کرتا ہے۔“ (ماخوذ از ملفوظات جلد 5 صفحہ 418-417۔ایڈیشن 1985 ، مطبوعہ انگلستان ) خطاب از مستورات جلسہ سالانہ یو کے 13 را گست 2016ء مطبوعہ افضل انٹرنیشنل 16 دسمبر 2016ء) مذکورہ بالا خطاب حضور انور نے 2016ء میں ارشاد فرمایا تھا۔اس سے اگلے سال جلسہ سالانہ یو کے میں خواتین کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حضور انور نے اسی مضمون کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: ”دنیا والوں کے بنائے ہوئے قواعد اور قانون کبھی غلطیوں اور خامیوں سے پاک نہیں ہو سکتے۔ابھی گزشتہ دنوں میں ایک خبر آئی تھی کہ سویڈن میں ایک عورت جو میوزک کے بڑے بڑے کنسرٹ کرتی ہے۔اس نے اعلان کیا ہے کہ ہر سال جو اُن کا بہت بڑا کنسرٹ (concert) ہوتا ہے اس میں اس دفعہ صرف عورتیں آئیں گی اور مرد نہیں بلائے جائیں گے اور وجہ یہ بیان کی کہ کیونکہ گزشتہ سالوں کے تجربہ سے یہ ثابت ہوا ہے کہ مرد آ کر عورتوں کے ساتھ بڑی بیہودگی کرتے ہیں بلکہ ریپ (rape) تک نوبت آجاتی ہے۔اب یہ نتیجہ ہے جومر دعورت کو اکٹھا رکھنے کا سامنے آیا ہے۔اس لئے اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ اگر معمولی سا بھی امکان ہو کہ کوئی غلط کام ہوسکتا ہے تو اس غلط کام سے بچو ، اس امکان سے بچو۔اسلام کی تعلیم پر اعتراض کرنے والے اب خود ہی اس بات کا اقرار کرنے لگ گئے ہیں کہ بعض جگہوں پر عورت اور مرد کی علیحدگی ہی بہتر ہے۔اب بعض جگہ 86