پردہ — Page 70
پرده غور کرو جو یورپ اس خلیع الرسن تعلیم سے بھگت رہا ہے“۔یعنی کہ اتنی آزادی والی تعلیم سے بھگت رہا ہے۔جہاں کوئی شرم و حیا ہی نہیں رہی اور ” بعض جگہ بالکل قابل شرم طوائفا نہ زندگی بسر کی جارہی ہے۔یہ انہی تعلیمات کا نتیجہ ہے۔اگر کسی چیز کو خیانت سے بچانا چاہتے ہو تو حفاظت کرو۔لیکن اگر حفاظت نہ کرو اور یہ مجھ رکھو کہ بھلے مانس لوگ ہیں تو یا درکھو کہ ضرور وہ چیز تباہ ہوگئی۔اس خوش فہمی میں نہ پڑے رہو کہ معاشرہ ٹھیک ہے ہمیں کوئی دیکھ نہیں رہا، یہاں کے ماحول میں پردے کی ضرورت نہیں کیونکہ لوگوں کو دیکھنے کی عادت نہیں۔فرمایا کہ اگر یہ مجھ رکھو کہ بھلے مانس لوگ ہیں یا درکھو کہ ضرور وہ چیز تباہ ہوگی۔اسلامی تعلیم کیسی پاکیزہ تعلیم ہے کہ جس نے مردوعورت کو الگ رکھ کر ٹھوکر سے بچایا اور انسان کی زندگی حرام اور تلخ نہیں کی جس سے یورپ نے آئے دن کی خانہ جنگیاں اور خود کشیاں دیکھیں“۔یہ بھی خود کشیوں کا یہاں جو اتنا بائی ریٹ (high rate) ہے اس کی بھی ایک یہی وجہ ہے ” بعض شریف عورتوں کا طوائفانہ زندگی بسر کرنا ایک عملی نتیجہ اس اجازت کا ہے جو غیر عورت کو دیکھنے کے لئے دی گئی۔‘( ملفوظات جلد اول صفحہ 29، 30 جدید ایڈیشن) تو آج بھی دیکھ لیں کہ جس بات کی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نشاندہی فرما رہے ہیں جیسا کہ میں پہلے بھی کہ آیا ہوں اسی کی وجہ سے بے اعتمادی پیدا ہوئی اور اس بے اعتمادی کی وجہ سے گھر اجڑتے ہیں اور طلاقیں ہوتی ہیں۔یہاں جو ان مغربی ممالک میں ستر ، اسی فیصد طلاقوں کی شرح ہے یہ آزاد معاشرے کی وجہ ہی ہے۔یہ چیزیں برائیوں کی طرف لے جاتی ہیں اور پھر گھر اجڑنے شروع ہو جاتے ہیں۔“ خطاب از مستورات جلسہ سالانہ یو کے 31 جولائی 2004ء - مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 24 اپریل 2015ء) 70