پردہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 37 of 222

پردہ — Page 37

عورت کو خاص طور پر پردے کا حکم ہے۔مردوں کو بھی حکم ہے کہ عقیق بصر سے کام لیں، حیا دکھا ئیں۔عورت کے لئے اس لئے بھی پردے کا حکم ہے کہ معاشرے کی نظروں سے بھی محفوظ رہے اور اس کی حیا بھی قائم رہے۔آنحضرت علی نے فرمایا ہے کہ حیا ایمان کا حصہ ہے۔اب آج کل کی دنیا میں، معاشرے میں، ہر جگہ ہر ملک میں بہت زیادہ کھل ہوگئی ہے۔عورت مرد کو حدود کا احساس مٹ گیا ہے۔mix gatherings ہوتی ہیں یا مغرب کی نقل میں بدن پوری طرح ڈھکا ہوا نہیں ہوتا ، یہ ساری اس زمانے کی ایسی بے ہودگیاں ہیں جو ہر ملک میں ہر معاشرے میں راہ پا رہی ہیں۔یہی حیا کی کمی آہستہ آہستہ پھر مکمل طور پر انسان کے دل سے، پکے مسلمان کے دل سے، حیا کا احساس ختم کر دیتی ہے اور جب انسان اللہ تعالیٰ کے ایک چھوٹے سے حکم کو چھوڑتا ہے تو پھر آہستہ آہستہ حجاب ختم ہوتا چلا جاتا ہے اور پھر بڑے حکموں سے بھی دُوری ہوتی چلی جاتی ہے اور آہستہ آہستہ اللہ تعالیٰ کی عبادت سے بھی دُوری بھی ہو جاتی ہے۔اور پھر انسان اسی طرح آخر کار اپنے مقصد پیدائش کو بھلا بیٹھتا ہے۔اس لئے اس زمانے میں خاص طور پر نوجوان نسل کو بہت احتیاط کرنی چاہئے۔ہر وقت دل میں یہ احساس رکھنا چاہئے کہ ہم اس شخص کی جماعت میں شمار ہوتے ہیں جو آنحضرت لیم کی پیشگوئی کے مطابق بندے کو خدا کے قریب کرنے کا ذریعہ بن کر آیا تھا۔پس اگر اُس سے منسوب ہونا ہے تو پھر اُس کی تعلیم پر بھی عمل کرنا ہو گا اور وہ تعلیم ہے کہ قرآن کریم کے چھوٹے سے چھوٹے حکم کی بھی تعمیل کرنی ہے۔اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو توفیق دے کہ وہ اس پر عمل کرنے والا بن جائے۔“ (خطبہ جمعہ فرمودہ 7 اپریل 2006ء بمقام مسجد طہ۔سنگا پور۔مطبوعہ الفضل 28 اپریل 2006ء) پرده 37