پردہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 36 of 222

پردہ — Page 36

پرده ایک کنویں میں تالاب کے کنارے بہت سے چرواہے اپنے جانوروں کو پانی پلارہے تھے تو انہوں نے دیکھا کہ ایک طرف دولڑ کیاں بھی اپنے جانور لے کے بیٹھی ہیں تو انہوں نے جب اُن سے پوچھا کہ تمہارا کیا معاملہ ہے تو لڑکیوں نے جواب دیا کیونکہ یہ سب مرد ہیں اس لئے ہم انتظار کر رہی ہیں کہ یہ فارغ ہوں تو پھر ہم اپنے جانوروں کو پانی پلائیں۔تو دیکھیں یہ حجاب اور حیا ہی تھی جس کی وجہ سے اُن لڑکیوں نے اُن مردوں میں جانا پسند نہیں کیا۔اس لئے یہ کہنا کہ مردوں میں mix up ہونے میں کوئی حرج نہیں ہے یا اکٹھی gathering کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور یہ علیحدگی فضول چیزیں ہیں۔عورت اور مرد کا یہ ایک تصور ہمیشہ سے چلا آرہا ہے۔عورت کی فطرت میں جو اللہ تعالی نے حیا رکھی ہے ایک احمدی عورت کو اُسے اور چمکانا چاہیئے، اُسے اور نکھارنا چاہئے، پہلے سے بڑھ کر باحیا ہونا چاہئے۔ہمیں تو اللہ تعالیٰ نے تعلیم بھی بڑی واضح دے دی ہے اس لئے بغیر کسی شرم کے اپنی حیا اور حجاب کی طرف ہر احمدی عورت کو ہر احمدی بچی کو ہر احمدی لڑکی کو توجہ دینی چاہئے۔“ خطاب بر موقع سالانہ اجتماع لجنہ اماءاللہ یو کے 20 نومبر 2005 _ مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 22 مئی 2015ء) شرم و حیا کو ملحوظ رکھتے ہوئے پردے کے قرآنی حکم کو اختیار کرنا ہی ایک احمدی عورت کے شایانِ شان ہے۔اس اہم ذمہ داری کی طرف حضور انور ایدہ اللہ نے احباب جماعت کو بار ہا توجہ دلائی ہے۔ایک خطبہ جمعہ میں حضور انور نے ارشاد فرمایا: ”حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک جگہ فرمایا ہے کہ یہ حکم سات سو ہیں۔پس ایک احمدی کو احمدیت قبول کرنے کے بعد ڈرتے ڈرتے اپنی زندگی گزارنی چاہئے کہ کہیں کسی حکم کی نافرمانی نہ ہو جائے۔اب مثلاً ایک حکم ہے حیا کا، 36