پردہ — Page 33
حیا ایمان کا حصہ ہے سیدنا حضرت خلیفہ امسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی نے جلسہ سالانہ ماریشس کے موقع پر احمدی خواتین سے خطاب کرتے ہوئے ایک احمدی خاتون کی ذمہ داریوں کے مختلف پہلوؤں کو بیان فرمایا۔اس ضمن میں اسلامی کی اہمیت کے حوالہ سے حضور انور ایدہ اللہ نے ارشاد فرمایا: پرده قرآن کریم کے حکموں میں سے ایک حکم عورت کی حیا اور اس کا کرنا بھی ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تمہاری زینت نامحرموں پر ظاہر نہ ہو۔یعنی ایسے لوگ جو تمہارے قریبی رشتہ دار نہیں ہیں ان کے سامنے بے حجاب نہ جاؤ۔جب باہر نکلوتوتمہارا سر اور چہرہ ڈھکا ہونا چاہئے، تمہارا لباس حیادار ہونا چاہئے اس سے کسی قسم کا ایسا اظہار نہیں ہونا چاہئے جو غیر کے لئے کشش کا باعث ہو۔بعض لڑکیاں کام کا بہانہ کرتی ہیں کہ کام میں ایسالباس پہنا پڑتا ہے جو کہ اسلامی لباس نہیں ہے۔تو ایسے کام ہی نہ کرو جس میں ایسا لباس پہننا پڑے جس سے ننگ ظاہر ہو۔بلکہ یہاں تک حکم ہے کہ اپنی چال بھی ایسی نہ بناؤ جس سے لوگوں کو تمہاری طرف توجہ پیدا ہو۔پس احمدی عورتوں کو قرآن کریم کے اس حکم پر چلتے ہوئے اپنے لباسوں کی اور اپنے پردے کی بھی حفاظت کرنی ہے اور اب جیسا کہ میں نے کہا باہر سے لوگوں کا یہاں آنا پہلے سے بڑھ گیا ہے۔پھر ٹیلی وژن وغیرہ کے ذریعہ سے بعض برائیاں اور ننگ اور بے حیائیاں گھروں کے اندر داخل ہوگئی ہیں۔ایک احمدی ماں اور ایک احمدی بچی کا پہلے سے زیادہ فرض بنتا ہے کہ اپنے آپ کو ان برائیوں سے بچائے۔33