پردہ — Page 216
پرده امریکہ سے آئی ہوئی ہیں اُن میں سے بعض کا ایسا اعلیٰ پر دہ تھا کہ قابل تقلید تھا، ایک نمونہ تھا بلکہ کل ملاقات میں میں نے اُن کو کہا بھی کہ لگتا ہے کہ اب تم لوگ جو ہو تم پاکستانیوں کے لئے پردے کی مثالیں قائم کرو گے یا جو انڈیا سے آنے والے ہیں اُن کے لئے پردے کی مثالیں قائم کرو گے۔۔66 ( خطاب از مستورات بر موقع جلسہ سالانہ کینیڈا۔25 جون 2005ء مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 2 / مارچ 2007ء) جلسہ سالانہ کے مواقع پر بھی مہمان خواتین کی ایک بڑی تعداد تشریف لاتی ہے جن میں سے بعض اپنے تاثرات کا اظہار بھی کرتی ہیں۔چنانچہ احمدی خواتین کے مثالی پر تحسین کا بر ملا اظہار کئی غیر از جماعت مہمان خواتین نے بھی کیا ہے۔مثلاً حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ اپنے ایک خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں : دامیبا بیا تریس صاحبہ (Damiba Beatrice) ہیں جو بورکینا فاسو سے جلسہ میں شامل ہوئیں اور بورکینا فاسو پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا کے لئے ہائر اتھارٹی کمیشن کی صدر ہیں۔دو دفعہ ملک کی فیڈرل منسٹر رہ چکی ہیں۔اس کے علاوہ اٹلی اور آسٹریا میں چودہ سال تک بورکینا فاسو کی سفیر بھی رہ چکی ہیں۔نیز یو این او میں بھی اپنے ملک کی نمائندگی کر چکی ہیں۔یہ کہتی ہیں کہ اس جلسہ میں شمولیت میرے لئے زندگی میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔۔۔۔مجھے کوئی شخص کالا، گورا یا انگلش یا فرنچ نظر نہ آیا بلکہ ہر احمدی مسلمان بغیر رنگ ونسل کے امتیاز کے اپنے خلیفہ کا عاشق ہی نظر آیا۔پھر کہتی ہیں کہ سب سے زیادہ جس بات سے میں متاثر ہوئی وہ یہ تھی کہ ہر شخص خدا کی خاطر ایک commitment کے ساتھ اس جلسہ میں شامل ہوا تھا۔۔۔۔عورتوں کو مردوں سے الگ تھلگ ایک جگہ دیکھنا میرے لئے باعث حیرت تھا اور مجھے یوں لگا کہ شاید یہاں بھی عورتوں سے دوسرے مسلمانوں کی طرح سلوک کیا جاتا ہے۔لیکن جب میں ان عورتوں کے ساتھ رہی تو کچھ ہی دیر میں میرا یہ 216