پردہ — Page 194
پرده ہمیشہ سامنے رکھنا چاہئے۔اور یہ کی طرف بے اعتنائی یا توجہ نہ دینا ہی ہے کہ اس وقت بھی میں نے دیکھا ہے کہ بال میں بہت ساری خواتین داخل ہوئی ہیں جن کے سر ننگے تھے۔جلسے کے لئے آ رہی ہیں۔جلسے کے ماحول کے لئے آ رہی ہیں۔جلسہ سننے کے لئے آ رہی ہیں۔ذہنوں میں یہ رکھ کر آ رہی ہیں کہ ایک پاکیزہ ماحول میں ہم جارہی ہیں اور وہاں بھی بال کھلے ہیں اور بالوں کو محفوظ رکھنے کے لئے ایک طریقہ ہے کہ سر پر دوپٹہ نہ لیا جائے ، چادر نہ لی جائے اور ننگے سر رہیں۔اگر یہ ننگے سر رکھنے ہیں تو پھر جلسے پر آنے کا مقصد کیا ہے۔اس سے بہتر ہے کہ گھر بیٹھی رہیں اور اپنے گرد جو دوسری اکثریت ان عورتوں کی ہے جن کے سر ڈھکے ہوئے ہیں اُن کو بھی بے حجاب نہ کریں۔پس اس طرف ضرور توجہ دیں کہ اپنی حیا کی آپ نے حفاظت کرنی ہے۔حیا ہی ایک عورت کا زیور اور سنگھار ہے۔آپ کے میک آپ سے زیادہ آپ کی حیا آپ کا زیور ہے، آپ کا سنگھار ہے۔یہ نہ سمجھیں کہ اگر ہم میں رہیں گی تو اس معاشرہ میں ہم گھل مل نہیں سکتیں۔یہ بالکل غلط چیز ہے۔بہت ساری ایسی ہیں بلکہ اچھے پروفیشن میں ہیں جن کو میں جانتا ہوں کہ وہ اپنے کاموں کے دوران بھی لمبے کوٹ پہن کے اور حجاب پہن کے جاتی ہیں۔کم از کم کوٹ کے ساتھ حجاب کے ذریعہ اپنا سر، اپنے سر کے بال اور ٹھوڑی ڈھانکنا ضروری ہے بشرطیکہ میک آپ نہ ہو۔اور اگر میک آپ کے ساتھ باہر نکلنا چاہتی ہیں تو پھر منہ ڈھانکا ہونا چاہئے۔اسی طرح بلا وجہ مردوں کے ساتھ میل جول، غیر ضروری باتیں کرنا یہ بھی اسلام نے منع کیا ہے۔اگر ان چھوٹی چھوٹی باتوں کی طرف ابھی توجہ نہ رہی تو پھر یہ بڑھتی چلی جائیں گی اور پھر وہی معاشرہ قائم ہو جائے گا جو مغرب میں اس وقت بے حیائی کا معاشرہ قائم ہے۔194