پردہ — Page 16
پرده مسلمان کی کسی عورت کی خوبصورتی پر نگاہ پڑتی ہے اور وہ محض بصر کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے ایسی عبادت کی توفیق دیتا ہے جس کی حلاوت وہ محسوس کرتا ہے۔(مسند أحمد مسند باقی الانصار باب حديث أبي أمامة الباهلى الصدى بن عجلان تو دیکھیں نظریں اس لئے نیچی کرنا کہ شیطان اس پر کہیں قبضہ نہ کرلے،اس وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کو نیکیوں کی توفیق دیتا ہے اور عبادات کی توفیق دیتا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : اسلام نے جو یہ حکم دیا ہے کہ مرد عورت سے اور عورت مرد سے کرے اس سے غرض یہ ہے کہ نفس انسانی پھسلنے اور ٹھو کر کھانے کی حد سے بچا رہے۔کیونکہ ابتداء میں اس کی یہی حالت ہوتی ہے کہ وہ بدیوں کی طرف جھکا پڑتا ہے اور ذراسی بھی تحریک ہو تو بدی پر ایسے گرتا ہے جیسے کئی دنوں کا بھوکا آدمی کسی لذیذ کھانے پر۔یہ انسان کا فرض ہے کہ اس کی اصلاح کرے۔۔۔یہ ہے سرہ اسلامی کا اور میں نے خصوصیت سے اسے ان مسلمانوں کے لئے بیان کیا ہے جن کو اسلام کے احکام 66 اور حقیقت کی خبر نہیں۔“ ( البدر جلد 3 نمبر 33 مورخہ 8 ستمبر 1904، صفحہ 6 سے 7 بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد سوم صفحہ 443) پھر فرماتے ہیں: ”ایماندارعورتوں کو کہہ دے کہ وہ بھی اپنی آنکھوں کو نامحرم مردوں کے دیکھنے سے بچائیں اور اپنے کانوں کو بھی نامحرموں سے بچائیں یعنی ان کی پر شہوت آواز میں نہ سنیں اور اپنے ستر کی جگہ کو میں رکھیں اور اپنی زینت کے اعضاء کو کسی غیر محرم پر نہ کھولیں اور اپنی اوڑھنی کو اس طرح سر پر لیں کہ گریبان سے ہو کر سر پر آجائے یعنی گریبان اور دونوں کان اور سر اور کنپٹیاں سب چادر کے میں رہیں اور اپنے پیروں کو زمین پر ناچنے والوں کی طرح نہ ماریں۔یہ وہ تدبیر ہے کہ جس سے پابندی 16