پردہ — Page 15
کی بات ہے۔تو آنحضرت علی نے فرمایا کہ اس سے کرو۔ہم نے عرض کی یارسول اللہ کیا وہ نابینا نہیں؟ نہ وہ ہمیں دیکھ سکتا ہے اور نہ ہی پہچان سکتا ہے تو آپ علیم نے فرمایا کہ کیا تم دونوں بھی اندھی ہو۔اور تم اس کو دیکھ نہیں رہیں۔(ترمذى كتاب الأدب عن رسول الله باب ما جاء فى احتجاب النساء من الرجال) دیکھیں کس قدر پابندی ہے کی کہ غض بصر کا حکم مردوں کو تو ہے، ساتھ ہی عورتوں کے لئے بھی ہے کہ تم نے کسی دوسرے مرد کو بلا وجہ نہیں دیکھنا۔حضرت جریر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صل للعالم اچانک نظر پڑ جانے کے بارہ میں دریافت کیا۔حضور عالم نے فرمایا اضرف بصَرَك، اپنی نگاہ ہٹا لو۔(ابو داؤد کتاب النکاح باب فی ما یؤمر بہ من غض البصر) تو دیکھیں اسلامی کی خوبیاں۔نظر پڑ جاتی ہے ٹھیک ہے، قدرتی بات ہے۔ایک طرف تو یہ فرما دیا عورت کو کہ تمہیں باہر نکلنے کی اجازت اس صورت میں ہے کہ کر کے باہر نکلو۔اور جو ظاہری نظر آنے والی چیزیں ہیں،خود ظاہر ہونے والی ہیں ان کے علاوہ زینت ظاہر نہ کرو۔اور دوسری طرف مردوں کو یہ کہہ دیا کہ اپنی نظریں نیچی رکھو، بازار میں بیٹھو تو نظر نیچی رکھو اور اگر پڑ جائے تو فوراً نظر ہٹا لو تا کہ نیک معاشرے کا قیام عمل میں آتا رہے۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ فضل ( بن عباس ) رسول اللہ صل ال السلام کے پیچھے سوار تھے تو خَشُعَہ قبیلہ کی ایک عورت آئی۔فضل اسے دیکھنے لگ پڑے اور وہ فضل کو دیکھنے لگ گئی۔تو اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فضل کا چہرہ دوسری طرف موڑ دیا۔(بخاری کتاب الحج باب وجوب الحج وفضله) حضرت ابو امامہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ علیم نے فرمایا کہ جب کسی پرده 15