پردہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 124 of 222

پردہ — Page 124

پرده دو پر دے کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ عورت بند ہو جائے۔آنحضرت علایم کے زمانے میں عورتیں جنگوں میں بھی جایا کرتی تھیں۔پانی وغیرہ پلایا کرتی تھیں۔دوسرے کاموں میں بھی شامل ہوتی تھیں۔پھر آنحضرت عالم کی سیرت اور اسلام کے بہت سے احکام کی وضاحت اور تشریح ہمیں حضرت عائشہؓ کے ذریعہ سے ملی ہے۔کہا جاتا ہے کہ حضرت عائشہ نے آدھا دین سکھایا ہے۔اس لئے روشن خیالی، تعلیم حاصل کرنا ، علم حاصل کرنا بھی بچیوں کے لئے ضروری ہے۔اور ضرور کرنا چاہئے۔نہ صرف اپنے لئے ضروری ہے بلکہ آئندہ ان بچوں کے لئے اور ان نسلوں کے لئے بھی ضروری ہے جو آپ کی گودوں میں پلنے اور بڑھنے اور جوان ہونے ہیں اور جنہوں نے احمدیت کی خدمت کرنی ہے۔اگر مجبوری سے کسی کو کام کرنا پڑتا ہے، کسی جگہ ملازمت کرنی پڑتی ہے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔لیکن ان باتوں کا بہانہ بنا کر ، ان ملازمتوں کا، نوکریوں کا یا تعلیم حاصل کرنے کا بہانہ بنا کر پردے نہیں اترنے چاہئیں۔اور یہاں مقامی جیسے کہ میں نے پہلے بھی کہا ہے ڈینش یا سویڈش شاید چند نارویجن بھی ہوں۔مجھے ابھی کوئی ملی نہیں ، وہ تو کم ہیں۔اس طرح پاکستانی خواتین بھی ہیں جو پڑھتی بھی ہیں، کام بھی کرتی ہیں، لیکن پردے میں۔تو جو پردے کی وجہ سے کام یا پڑھائی میں روک کا بہانہ کرتی ہیں ان کے صرف بہانے ہیں۔نیک نیت ہو کر اگر کہیں اس وجہ سے روک بھی ہے تو اس کو دُور کرنے کی کوشش کریں۔آپ جہاں ملازمت کرتی ہیں ان کو بتائیں تو کوئی پابندی نہیں لگا تا کہ حجاب اتارو یا سکارف اتار و یا برقع اتارو۔اور پھر نیک نیتی سے کی گئی کوششوں میں اللہ تعالیٰ 66 بھی مددفرماتا ہے۔“ خطاب از مستورات جلسہ سالانہ سویڈن 17 ستمبر 2005ء مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 15 مئی 2015ء) 124