پردہ — Page 121
میٹنگ میں ایک سوال کے جواب میں حضور انور ایدہ اللہ نے یوں بھی رہنمائی فرمائی: صرف مخصوص اوقات میں جب صرف عورتوں کا ٹائم ہو تو ایسے سوئمنگ لباس (swimming suit) میں جو پورا جسم cover کرتا ہو تو سوئمنگ کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔“ ( 18 ستمبر 2010 میٹنگ مجلس عاملہ لجنہ آئر لینڈ۔مطبوعہ افضل انٹرنیشنل 22 اکتوبر 2010ء) مغربی معاشرہ میں احمدی عورت کا لباس حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ہر معاشرہ میں اور خصوصاً مغربی ممالک میں رہنے والی احمدی عورتوں کو اُن کے لباس میں حیا کے بنیادی پہلوؤں کو پیش نظر رکھنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے اپنے ایک تفصیلی خطاب میں ارشاد فرمایا: کچھ اور لوگ بھی ہوتے ہیں جن کا مقصد صرف دنیا کو مرعوب کرنا اور فیشن کرنا ہوتا ہے وہ اس بنیادی مقصد کی طرف کم توجہ دیتے ہیں۔اس لئے یورپ میں دیکھ لیں کہ اس مقصد کو بھلانے کی وجہ سے کہ ننگ کو ڈھانپنا ہے اس کی بجائے یہاں آپ کو عجیب عجیب قسم کے بے ڈھنگے اور ننگے لباس نظر آتے ہیں۔اور پھر ان ننگے لباس کے اشتہاروں وغیرہ کی فلم بھی اخباروں میں ٹی وی وغیرہ پر آتی ہے۔تو بہر حال جن لوگوں میں کچھ شرافت ہے ان کا بنیادی مقصد یہی ہوتا ہے کہ اپنے ننگ کو چھپایا جائے اور پھر ٹھیک ہے ظاہری طور پر فیشن بھی تھوڑا بہت کر لیا جائے لیکن جیسا کہ میں نے کہا ایک احمدی عورت کا بنیادی مقصد یہی ہے اور یہی ہونا چاہئے کہ ننگ کو ڈھانپا جائے۔عورت کی یہ فطرت ہے،جس طبقہ میں اور جس سوچ کی بھی ہو، ایک بات یہ ہے کہ اپنے ماحول میں دوسروں سے نمایاں نظر آنے کی خواہش ہوتی پرده 121