پردہ — Page 112
پرده مثلاً اس معاشرے میں ان لوگوں کی نظر میں بظاہر یہ ایک چھوٹی سی برائی ہے کہ سے عورت کے حقوق غضب ہوتے ہیں۔اس معاشرے میں اس پر دہ کے خلاف بہت کچھ کہا جاتا ہے اور ان کی نظر میں یہ کوئی برائی نہیں۔اس لئے اس بارے میں یہ کہتے ہیں کہ شریعت کے حکم کی ضرورت نہیں تھی۔بعض لڑکیاں احساس کمتری کا شکار ہو کر کہ لوگ کیا کہیں گے یا ان کے دوست اسے پسند نہیں کرتے یا سکول یا کالج میں اسٹوڈنٹ یا ٹیچر بعض دفعہ کا مذاق اڑا دیتے ہیں تو کرنے میں ڈھیلی ہو جاتی ہیں۔شیطان کہتا ہے یہ تو معمولی سی چیز ہے۔تم کون سا اس حکم کو چھوڑ کر اپنے تقدس کو ختم کر رہی ہو۔معاشرے کی باتوں سے بچنے کے لئے اپنے دوپٹے، سکارف، نقاب اتار دو۔کچھ نہیں ہوگا۔باقی کام تو تم اسلام کی تعلیم کے مطابق کر ہی رہی ہو لیکن اس وقت پر دہ اتارنے والی لڑکی اور عورت کو یہ خیال نہیں رہتا کہ یہ تو ایسا حکم ہے جس کا قرآن کریم میں ذکر ہے۔عورت کی حیا اس کا حیادار لباس ہے۔عورت کا تقدس اس کے مردوں سے بلا وجہ کے میل ملاقات سے بچنے میں ہے۔اس معاشرہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسی احمدی لڑکیاں بھی ہیں جو اُن کے پر مردوں کی طرف سے اعتراض پر انہیں منہ توڑ کر جواب دیتی ہیں کہ ہمارا فعل ہے۔ہم جو پسند کرتی ہیں ہم کر رہی ہیں۔تم ہمیں پردے اتارنے پر مجبور کر کے ہماری آزادی کیوں چھین رہے ہو؟ ہمیں بھی حق ہے کہ اپنے لباس کو اپنے مطابق پہنیں اور اختیار کریں۔لیکن بعض ایسی بھی ہیں جو باوجود احمدی ہونے کے یہ کہتی ہیں کہ اس معاشرے میں کرنا اور سکارف لینا بہت مشکل ہے، ہمیں شرم آتی ہے۔ماں باپ کو بھی بچپن سے لڑکیوں میں یہ باتیں پیدا کرنی چاہئیں کہ شرم تمہیں اسلامی تعلیم پر عمل نہ کر کے آنی چاہئے نہ کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو مان کر “ ( خطبہ جمعہ فرمودہ 20 مئی 2016ء بمقام مسجد ناصر، گوٹن برگ، سویڈن۔مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 10 جون 2016ء) 112