پردہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 100 of 222

پردہ — Page 100

پرده غیر مومن کے لباس کی زینت کا معیار مختلف ہوتا ہے اور کسی بھی شریف آدمی کے لباس کا ، جوزینت کا معیار ہے وہ مختلف ہے۔آج کل مغرب میں اور مشرق میں بھی فیشن ایبل (fashionable) اور دنیا دار طبقے میں لباس کی زینت اُس کو سمجھا جاتا ہے بلکہ مغرب میں تو ہر طبقہ میں سمجھا جاتا ہے جس میں لباس میں سے ننگ ظاہر ہو رہا ہو اور جسم کی نمائش ہو رہی ہو۔مرد کے لئے تو کہتے ہیں کہ ڈھکا ہوا لباس زینت ہے۔لیکن مرد ہی یہ بھی خواہش رکھ رہے ہوتے ہیں کہ عورت کا لباس ڈھکا ہوا نہ ہو اور عورت جو ہے، اکثر جگہ عورت بھی یہی چاہتی ہے۔وہ عورت جسے اللہ تعالیٰ کا خوف نہیں ہوتا، اس کے پاس لباس تقویٰ نہیں ہے اور ایسے مرد بھی یہی چاہتے ہیں۔ایک طبقہ جو ہے مردوں کا وہ یہ چاہتا ہے کہ عورت جدید لباس سے آراستہ ہو بلکہ اپنی بیویوں کے لئے بھی وہی پسند کرتے ہیں تا کہ سوسائٹی میں ان کو اعلیٰ اور فیشن ایبل سمجھا جائے۔چاہے اس لباس سے ننگ ڈھک رہا ہو یا نہ ڈھک رہا ہو۔لیکن ایک مومن اور وہ جسے اللہ تعالیٰ کا خوف ہے چاہے مرد ہو یا عورت وہ یہی چاہیں گے کہ خدا کی رضا حاصل کرنے کے لئے وہ لباس پہنیں جو خدا کی رضا کے حصول کا ذریعہ بھی بنے اور وہ لباس اس وقت ہوگا جب تقویٰ کے لباس کی تلاش ہوگی۔جب ایک خاص احتیاط کے ساتھ اپنے ظاہری لباسوں کا بھی خیال رکھا جارہا ہوگا۔66 حضور انور ایدہ اللہ نے مزید فرمایا:۔۔۔پس یہ تقویٰ کا لباس ہے جو ظاہری لباس کے معیار بھی قائم کرتا ہے اور ایک دوسرے کی پوشی کے معیار بھی قائم کرتا ہے اور اس کا حصول اللہ تعالیٰ کی طرف جھکے بغیر نہیں ہوسکتا۔کیونکہ شیطان ہر وقت تاک میں ہوتا ہے کہ کس طرح موقع ملے اور میں بندوں سے اس تقویٰ کے لباس کو اتار دوں۔100