پردہ — Page 84
پرده ہیں۔سب سے بڑا اعتراض ان کو ہمارے پر یہی ہوتا ہے۔یہی لوگ چند دہائیاں پہلے عورتوں کو ہر قسم کے حقوق سے محروم رکھے ہوئے تھے اور جب وقت کے ساتھ عورت نے اپنے حق کے لئے آواز اٹھائی تو کیونکہ عورت کو حق دلانے کی یہ انسانی کوشش تھی اس لئے اس نے دوسری انتہا اختیار کر لی۔عورت کو حق دینے کے نام پر اسے ہمدردی کے جذبے کے تحت اتنا زیادہ دنیا کے سامنے پیش کیا گیا کہ اس کا تقدس ہی ختم کر دیا۔ہمدردی کے جذبے کی آڑ میں آزادی کے نام پر عورت کے تقدس کو پامال کیا گیا ہے۔یورپ کی عورت کو اس بات کا تجربہ نہیں کہ عورت کی اپنی شناخت اس وقت زیادہ اُبھرتی ہے اور اس کو اپنے تحفظ کا احساس اس وقت زیادہ ہوتا ہے جب وہ عورتوں میں ہو اور عورتوں کی تنظیم کے ساتھ کام کر رہی ہو اور آزادی سے اس کی ہر حرکت ہو۔قریباً دو سال پہلے ایک انگریز مہمان یہاں آئی تھیں۔اچھی لکھنے والی ہیں۔سارا دن انہوں نے عورتوں کے ساتھ گزارا اور شام کو کہنے لگیں کہ پہلے مجھے بڑا عجیب لگا تھا کہ صرف عورتوں میں ہوں لیکن سارا دن یہاں گزار کر مجھے احساس ہوا کہ میں زیادہ آزاد ہوں اور مجھے زیادہ تحفظ مل رہا ہے۔پس جب عورت کو اس کا تقدس قائم رکھتے ہوئے اس کے حقوق کا بتایا جائے تو چاہے مغرب میں پلی بڑھی غیر مسلم عورت ہو وہ اس بات کا اظہار کرے گی کہ اسلام عورت کے حقوق قائم کرتا ہے اور عورت کا علیحدہ بیٹھنا کوئی اس کی آزادی کو ختم نہیں کرتا۔اس چینل فور (4) Channel) کی جو کل نمائندہ آئی تھی انہی خاتون نے جب اپنے ٹویٹر (twitter) پر نمائش کا یا کسی کا حوالہ دے کر ٹویٹ (tweet) کیا کہ وہاں اس طرح ہو رہا ہے ، عورتوں کو جانے کی اجازت نہیں۔تو اسی عورت نے پھر ان کا جواب بھی دیا اور یہ بھی مجھے خوشی ہے کہ بہت ساری احمدی لڑکیوں نے بھی 84