پردہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 66 of 222

پردہ — Page 66

پرده ڈالے، کار سے اترنے سے لے کر اس حصہ تک جہاں سے مردوں میں سے گزرنا ہے یا جہاں تک لمبا راستہ ہے اور جب ہال کے اندر آ جائے جہاں صرف عورتیں ہوں تو وہاں بیشک اتار دے اور پھر جب اپنے دلہا کے ساتھ جاتی ہے اس وقت بھی چادر اوڑھ کے کار میں جا کر بیٹھے۔یہ نہیں کہ مرد کھڑے ہیں اور سارے دیکھ رہے ہیں اور بیچ میں سے گزر رہی ہے اور بڑی واہ واہ ہورہی ہے، بڑی خوبصورت دلہن بنی ہوئی ہے۔احمدی دلہن کی خوبصورتی تو یہ ہے کہ اس کا بھی ہو۔“ ( کلاس واقفات نو 11 جولائی 2012ء مسجد بیت الاسلام، کینیڈا۔مطبوعہ افضل انٹرنیشنل 28 رستمبر 2012ء) مختلف تقاریب کے دوران پردے سے اجتناب کرنے کے لئے عورتیں مختلف بہانے تراشتی ہیں۔عورتوں کے ایسے بہانوں کورڈ کرتے ہوئے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی روشنی میں اپنے ایک خطبہ جمعہ میں ارشاد فرمایا: یہاں یہ بات بھی واضح کر دوں کہ بعض عورتیں یہ بھی سوال اٹھا دیتی ہیں کہ ہم نے میک آپ کیا ہوتا ہے اگر چہرے کو نقاب سے ڈھانک لیں تو ہمارا میک آپ خراب ہو جاتا ہے۔تو کس طرح کریں۔اول تو میک آپ نہ کریں تو پھر یہ ، کم از کم ہے جس کا معیار حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بتایا کہ چہرہ، ہونٹ ننگے ہو سکتے ہیں۔باقی چہرہ ڈھانکا ہو۔(ماخوذ از ریویو آف ریلیجز، جلد 4 نمبر 1 صفحہ 17 ماہ جنوری 1905ء) اور اگر میک آپ کرنا ہے تو (چہرہ) بہر حال ڈھانکنا ہوگا۔ان کو یہ سوچنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی تعلیم پر چلتے ہوئے اپنی زینت کو چھپانا ہے یا دنیا کو اپنی خوبصورتی اور اپنا میک آپ دکھانا ہے۔“ ( خطبہ جمعہ فرمودہ 13 / جنوری 2017ء بمقام مسجد بیت الفتوح ، لندن۔مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 3 فروری 2017ء) 66