پردہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 63 of 222

پردہ — Page 63

نہیں، کچھ نہیں۔تو اس میں پہلی بات تو یہ ہے کہ شرفاء کا ناچ اور ڈانس سے کوئی تعلق نہیں۔اور اگر کسی کو اعتراض ہے تو ایسی شادیوں میں نہ شامل ہو۔جہاں تک گانے کا تعلق ہے تو شریفانہ قسم کے، شادی کے گانے لڑکیاں گاتی ہیں، اس میں کوئی حرج نہیں۔پھر دعائیہ نظمیں ہیں جو پڑھی جاتی ہیں۔تو یہ کس طرح کہ سکتی ہیں کہ شادی میں اور موت میں کوئی فرق نہیں، یہ سوچوں کی کمی ہے۔ایسے لوگوں کو اپنی حالت درست کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ہم تو دعاؤں سے ہی نئے شادی شدہ جوڑوں کو رخصت کرتے ہیں تا کہ وہ اپنی نئی زندگی کا ہر لحاظ سے بابرکت آغاز کریں اور ان کو اس خوشی کے ساتھ ساتھ دعاؤں کی بھی ضرورت ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کا گھر آباد رکھے، نیک اور صالح اولا د بھی عطا فرمائے۔پھر یہ کہ وہ دونوں دین کے خادم ہوں اور ان کی نسلیں بھی دین کی خادم ہوں۔پھر یہ ہے کہ دونوں فریق جو شادی کے رشتے میں منسلک ہوئے ہیں، ان کے لئے یہ دعائیں بھی کرنی چاہئیں کہ وہ اپنے والدین کے اور اپنے رشتہ داروں کے حقوق ادا کرنے والے بھی ہوں۔تو احمدی تو اسی طرح شادی کرتے ہیں اگر کسی کو اس پر اعتراض ہے تو ہوتا رہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ہمیں یہی حکم ہے کہ خوشیاں بھی مناؤ تو سادگی سے مناؤ اور اللہ کی رضا کو ہمیشہ پیش نظر رکھو۔کیونکہ ہماری کامیابی کا انحصار اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے اور اس کی طرف جھکنے میں ہی ہے۔اس لئے ہم تو اسی طرح شادیاں مناتے ہیں اور جو غیر بھی ہماری شادیوں میں شامل ہوتے ہیں وہ اچھا اثر لے کر جاتے ہیں۔“ پرده ( خطبه جمعه فرموده 30 جنوری 2004 ء بمقام مسجد بیت الفتوح ، لندن - مطبوعه الفضل انٹرنیشنل 9 اپریل 2004 ) شادیوں پر ڈانس کرنے کو انتہائی بیہودگی سے تشبیہ دیتے ہوئے حضورانور 63