پردہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 48 of 222

پردہ — Page 48

پرده (النور:32) اور پھر لمبی فہرست ہے کہ باپوں کے سامنے، خاوندوں کے سامنے، بیٹوں کے سامنے جو زینت ظاہر ہوتی ہے وہ ان کے علاوہ باقی جگہ آپ نے ظاہر نہیں کرنی۔اب اس میں لکھا ہے کہ اپنی اوڑھنیاں اپنے گریبانوں پر ڈال لو۔تو بعض کہتے ہیں کہ گریبانوں پر اوڑھنیاں ڈالنے کا حکم ہے اس لئے گلے میں دوپٹہ ڈال لیا یا سکارف ڈال لیا تو یہ کافی ہو گیا۔تو ایک تو یہ حکم ہے کہ زینت ظاہر نہ کریں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جب باہر نکل تو اتنا چوڑا کپڑا ہو جو جسم کی زینت کو بھی چھپاتا ہو۔دوسری جگہ سر پر چادر ڈالنے کا بھی حکم ہے۔اسی لئے دیکھیں تمام اسلامی دنیا میں جہاں بھی تھوڑا بہت کا تصور ہے وہاں سرڈھانکنے کا تصور ضرور ہے۔ہر جگہ حجاب یا نقاب اس طرح کی چیز لی جاتی ہے یا سکارف باندھا جاتا ہے یا چوڑی چادر لی جاتی ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ (النور :32) بڑی چادروں کو اپنے سروں سے گھسیٹ کر سینوں تک لے آیا کرو۔بڑی چادر ہو سر بھی ڈھانکا ہو اور جسم بھی ڈھانکا ہو۔باپوں اور بھائیوں اور بیٹوں وغیرہ کے سامنے تو بغیر چادر کے آسکتی ہو۔اب جب باپوں اور بھائیوں اور بیٹیوں کے سامنے ایک عورت آتی ہے تو شریفانہ لباس میں ہی آتی ہے۔چہرہ وغیرہ نگا ہوتا ہے۔تو فرمایا کہ یہ چہرہ وغیرہ نگا جو ہوتا ہے یہ باپوں اور بھائیوں اور بیٹوں اور ایسے رشتے جو محرم ہوں، ان کے سامنے تو ہو جاتا ہے لیکن جب باہر جاؤ تو اس طرح ننگا نہیں ہونا چاہئے۔اب آج کل اس طرح چادر میں نہیں اوڑھی جاتیں۔لیکن نقاب یا برقع یا کوٹ وغیرہ لئے جاتے ہیں۔تو اس کی بھی اتنی سختی نہیں ہے کہ ایسا ناک بند کرلیں کہ سانس بھی نہ آئے۔سانس لینے کے لئے ناک کو ننگا رکھا جاسکتا ہے لیکن ہونٹ وغیرہ 48