پردہ — Page 218
پرده کے بارہ میں ایک خوبصورت اظہار ایک غیر از جماعت مسلمان خاتون جرنلسٹ نے بھی کیا جو باغیانہ ردعمل کے طور پر کرنا ترک کر چکی تھیں۔اُن کے تأثرات بیان کرتے ہوئے حضور انور ایدہ اللہ ارشاد فرماتے ہیں: Belize میں اس دفعہ جماعت قائم ہوئی ہے۔وہاں کی ایک جرنلسٹ مریم عبدل صاحبہ آئی ہوئی تھیں۔یہ بلیز کے کریم (Krem) ٹی وی کی معروف اینکر بھی ہیں۔۔۔۔انہوں نے بتایا کہ وہ کٹرسٹی خاندان میں پیدا ہوئی تھیں۔کہتی ہیں میرا باپ بڑا سخت مسلمان تھا جس کی وجہ سے مجھے رد عمل ہوا اور میں نے بڑے ہو کر اسلامی احکامات پر عمل کرنا چھوڑ دیا کیونکہ ، سکارف اور بہت ساری ایسی باتیں جن کا غلط رنگ میں یا صحیح رنگ میں دوسرے مسلمانوں میں رواج ہے۔ان میں اتنی سختی تھی کہ میں اسلام کی تعلیم سے دُور ہو گئی۔بڑی ہوئی تو سکارف حجاب سب کچھ اُتار کے پھینک دیا۔لیکن کہتی ہیں خدا تعالیٰ پر مجھے بہر حال یقین ہے۔لیکن جلسہ سالانہ میں یہاں آ کر مجھے ایک انوکھا تجربہ ہوا ہے۔یہاں میں نے کسی عورت کو پابند اور جکڑا ہوا نہیں دیکھا۔ہر لڑکی ، ہر عورت آزاد تھی۔میں نے عورتوں اور بچیوں کو دیکھا۔وہ آزادانہ طور پر پھر رہی تھیں۔نظمیں پڑھ رہی تھیں۔بازار میں جارہی تھیں۔ایک دوسرے کو محبت سے مل رہی تھیں۔اس نے میرے اندر یہ سوچ پیدا کر دی ہے کہ اگر میں احمدی مسلمان گھر میں پیدا ہوئی ہوتی تو میری روش باغیانہ نہ ہوتی۔پس احمدی خوش قسمت ہیں۔ان کو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ ان کو احمدی گھروں میں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا اور کچھ کو احمدی ہونے کی توفیق عطا فرمائی اور ان باتوں سے بچا کے رکھا جو باغیانہ روش پیدا کرتی ہیں۔بعض احمدی بچیوں میں بھی رد عمل ہوتا ہے، ان کو بھی یادرکھنا چاہئے کہ غیر آ کر ہمارے سے متأثر ہوتے ہیں اس 218