پردہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 213 of 222

پردہ — Page 213

مقدمے قائم کئے جا رہے ہیں۔بعض کو جیل میں بھیج دیا گیا ہے۔۔۔۔پولیس نے بعض دفعہ بعض گھروں میں گھس کر عورتوں کی بے پردگی کرنے کی کوشش کی۔مثلاً چند دن ہوئے ایک عورت سے کہا کہ اپنا دوپٹہ اتارو۔اس نے کہا مجھے جان سے مار دو میں دوپٹہ نہیں اتاروں گی اور نہ میں احمدیت چھوڑوں گی۔“ ( خطبہ جمعہ فرمودہ 27 جنوری 2017ء بمقام مسجد بیت الفتوح لندن - مطبوعہ افضل انٹرنیشنل 17 فروری 2017ء) لجنہ اماءاللہ کراچی کی سابق صدر مکرمہ سلیمہ میر صاحبہ کی خوبیوں کا تذکرہ کرتے دو ہوئے حضور انور ایدہ اللہ نے اپنے ایک خطبہ جمعہ میں فرمایا کہ : پر دے کا انتہائی اہتمام کرنے والی تھیں۔جہاں بھی پردے میں کمزوری دیکھتیں بڑے اچھے انداز میں سمجھا دیتیں تا کہ دوسروں کو بُرا بھی نہ لگے۔ان کی ایک بیٹی کہتی ہیں کہ میری چھوٹی بہن کے لئے رشتہ آیا تو لڑکے نے کہا کہ پہلے میں لڑکی کو دیکھوں گا پھر بات آگے بڑھے گی۔کہتی ہیں کہ ہم نے امی سے کہا کہ بہن کو نقاب کی بجائے سکارف میں سامنے کر دیتے ہیں۔اپنی بیٹی کا رشتہ تھا۔کہتی ہیں اس پراٹی نے فوراً جواب دیا کہ رشتہ ہوتا ہے تو ہو لیکن نقاب کے بغیر یہ نہیں جائے گی۔ایک بچی کا لندن میں ڈرائیونگ ٹیسٹ تھا اور انسٹرکٹر مرد تھا تو بیٹی کے ساتھ چل پڑیں کہ مرد کے ساتھ تمہیں اکیلا نہیں جانے دوں گی۔لوگوں نے مذاق بھی اڑایا۔لیکن انہوں نے دنیا کی کوئی پرواہ نہیں کی۔سر پر سکارف لینے کے لئے یا نقاب لینے کے لئے ہمیشہ کہا کرتی تھیں۔لجنہ کی جو کتاب ہے جس میں سارے خلفاء کے ارشادات ہیں اس کا نام ہے اوڑھنی والیوں کے لئے پھول۔تو یہ کہا کرتی تھیں کہ اگر پھول لینا چاہتی ہو تو اوڑھنی لینی پڑے گی۔پھول تو اسی کے لئے ہیں جو کرنے والی ہیں۔“ ( خطبہ جمعہ فرمودہ 30 مارچ 2018ء بمقام مسجد بیت الفتوح لندن - مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 20 را پریل 2018ء)۔۔۔خلفائے عظام کی نصائح کے نتیجہ میں معاشرہ میں جو غیر معمولی اخلاقی تبدیلی پرده 213