پردہ — Page 195
پس قرآن کریم کے کسی بھی حکم کو کم نظر سے نہ دیکھیں۔یہ نہ سمجھیں کہ یہ پرانے وقتوں کا حکم ہے یا صرف پاکستان اور ایشیاء کے ممالک کے لئے حکم ہے۔یہ اسلام کا حکم ہے اور ہر زمانے کے لئے ہے، ہر ملک کے لئے ہے، ہر ملک کی احمدی مسلمان عورت کے لئے ہے۔میں بار بار مختلف جگہوں پر اس کی طرف تو جہ اس لئے دلاتا ہوں کہ یہ کمزوری بڑھتی جارہی ہے اور اگر یہی حال رہا تو پھر آئندہ جو ہماری نسلیں ہیں ان کی حیا کی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔وہ پھر اسی طرح کھلے بال اور جین بلاؤز پہن کے منی سکرٹیں پہن کر باہر جائیں گی اور پھر وہ احمدی نہیں کہلاسکتیں۔پھر وہ احمدیت سے بھی باہر جائیں گی۔پس اس بات کا احساس کریں اور بے حجابیوں میں اور ہوا و ہوس میں ڈوبنے سے بچیں ورنہ آئندہ نسلوں کی، حیا کے تقدس کی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔پس اگر اللہ تعالیٰ کی رضا اور خیر چاہتی ہیں تو حیا کی بہت حفاظت کریں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا کہ : حیا سب کی سب خیر ہے۔“ پرده (صحیح مسلم کتاب الایمان باب بیان عدد شعب الايمان۔۔۔۔حدیث 157 ) ( خطاب از مستورات جلسہ سالانہ کینیڈا 7 جولائی 2012 ء۔مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 23 نومبر 2012ء) حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے بار با احمدی خواتین سے مخاطب ہوتے ہوئے نہایت فکر سے تربیتی نصائح ارشاد فرمائی ہیں۔ایک ایسے ہی خطاب میں سے ایک حصہ ہدیہ قارئین ہے جس میں بیان فرمودہ نصائح کو ہمیشہ ہمیں پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔حضور انور ایدہ اللہ نے ارشاد فرمایا: ہمیشہ یا درکھنا چاہئے کہ للہ تعالیٰ پر ایمان تبھی مضبوط ہوتا ہے جب یہ یقین ہو کہ خدا تعالیٰ مجھے ہر وقت دیکھ رہا ہے۔بعض بُرائیاں اس لئے پیدا ہو جاتی ہیں کہ برائی کرنے والا سمجھ رہا ہوتا ہے کہ مجھے کوئی دیکھ نہیں رہا اور اُس وقت انسان یہ 195