پردہ — Page 184
پرده ہوگا۔اب یہ جو کہتے ہیں جینز پہن لیتی ہیں عہدیدار یا عہد یداروں کی بچیاں اور یہ اور وہ۔اگر آپ میں سے کوئی جینز skiny جینز پہن لیتا ہے۔سوال یہ ہے کہ ایسالباس یعنی جینز پہننے میں کوئی حرج نہیں۔لیکن کوئی بھی ایسا لباس جس سے جسم کے حصے یا اعضاء ظاہر ہوتے ہوں ، تنگ لباس ہو وہ منع ہے۔ہندوستان میں رواج ہے تنگ پاجامہ پہنے کا لیکن جب باہر نکلتے ہیں تو برقع ہوتا ہے، لمبا کوٹ ہوتا ہے یا چادر ایسی ہونی چاہئے جس نے کم از کم گھٹنوں تک لپیٹا ہو۔جینز اگر پہن لی ، اگر لبی قمیص ہے تو کوئی حرج نہیں۔لیکن اگر جینز پہن کے چھوٹا بلاؤ ز ہے صرف سر پر حجاب لے کر باہر نکل آئی ہیں تو وہ بے فائدہ چیز ہے۔کیونکہ سر کا تو آپ نے کرلیا جسم کا نہیں کیا اور حیا جو ہے وہ قائم رکھنا اصل مقصد ہے۔حیا کے معیار بڑھنے چاہئیں۔اصل چیز یہ ہے۔عورت کا تقدس اسی میں ہے۔۔بلکہ اب تو پچھلے دنوں ٹی وی پر ایک پروگرام غیروں کا آرہا تھا مسلمانوں کا۔کوئی عورتیں جو اب مسلمان ہوئیں ہیں انہوں نے کہا ہے کہ ہم اپنے آپ کو ڈھانک کے زیادہ محفوظ محسوس کرتی ہیں۔بلکہ ایک عیسائی انگریز عورت کا بھی اس میں بیان تھا کہ مرد جو پر دے پردے کا شور مچاتے ہیں کہ ہم نے عورت کو آزادی دلوادی۔حالانکہ مسلمان نہیں تھی وہ عیسائی جرنلسٹ ہے اس نے کہا کہ دیکھ کے اور یہ ساری باتیں سن کے میں سمجھتی ہوں کہ مغرب میں چھڑایا جارہا ہے۔مردوں نے اپنی عیاشی کے لئے ، اپنی نظروں کی تسکین کے لئے چھڑایا ہے عورتوں کی آزادی کے لئے نہیں چھڑایا۔اس لئے ہمیشہ یاد رکھیں کہ عورت کا ایک تقدّس ہے، اس تقدس کو قائم رکھنا ہے۔اس تقدس کو قائم رکھنے کی مثال واقفات تو نے بنتا ہے ہر بارہ میں ہر معاملے میں۔184