پردہ — Page 128
پرده حضور انور ایدہ اللہ نے احمدیوں کو سوشل میڈیا پر تصاویر ڈالنے اور پھر تصاویر پر اپنی آراء اور تبصروں کا بر ملا اظہار کرنے سے بھی منع فرمایا ہے۔چنانچہ فرمایا: آج انٹرنیٹ یا کمپیوٹر پر آپس کے تعارف کا ایک نیا ذریعہ نکلا ہے جسے facebook کہتے ہیں۔گو اتنا نیا بھی نہیں لیکن بہر حال یہ بعد کی چند سالوں کی پیداوار ہے۔اس طریقے سے میں نے ایک دفعہ منع بھی کیا ہے، خطبہ میں بھی کہا کہ یہ بے حیائیوں کی ترغیب دیتا ہے جو آپس کے حجاب ہیں، ایک دوسرے کا حجاب ہے، اپنے راز ہیں بندے کے۔وہ اُن حجابوں کو توڑتا ہے، ان رازوں کو فاش کرتا ہے اور بے حیائیوں کی دعوت دیتا ہے۔اس سائٹ کو بنانے والا جو ہے اُس نے خود یہ کہا ہے کہ میں نے اسے اس لئے بنایا ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ انسان جو کچھ ہے وہ ظاہر و باہر ہو کر دوسرے کے سامنے آجائے اور اُس کے نزدیک ظاہر و باہر ہو جانا یہ ہے کہ اگرننگی تصویر بھی کوئی اپنی ڈالتا ہے تو بیشک ڈال دے اور اس پر دوسروں کو تبصرہ کرنے کی دعوت دیتا ہے تو یہ جائز ہے۔انا للہ۔اسی طرح دوسرے بھی جو کچھ دیکھیں کسی کے بارے میں اس میں ڈال دیں۔یہ اخلاقی پستی اور گراوٹ کی انتہا نہیں تو اور کیا ہے؟ اس اخلاقی پستی اور گراوٹ کی حالت میں ایک احمدی ہی ہے جس نے دنیا کو اخلاق اور نیکیوں کے اعلیٰ معیار بتانے ہیں۔“ اختتامی خطاب جلسہ سالانہ جرمنی 26 جون 2011ء - مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 3 جولائی 2015ء) ایک بچی نے سوال و جواب کی ایک نشست میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ سے دریافت کیا کہ facebook کے بارہ میں حضور انور نے فرمایا تھا کہ یہ اچھی نہیں ہے۔اس سے منع کیا تھا۔اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ : میں نے یہ نہیں کہا تھا کہ اس کو نہ چھوڑو گے تو گنہگار بن جاؤ گے۔بلکہ میں نے بتایا کہ اس کے نقصان زیادہ ہیں اور فائدہ بہت کم ہے۔آجکل جن کے پاس 128