پردہ — Page 111
ڈھال ، لباس اور حرکات اور سکنات سے اسلامی تعلیمات جھلکتی نظر آنی چاہئیں۔دس گیارہ سال کی عمر سے ہی انہیں سر ڈھانپنے اور پورا اور مناسب لباس پہننے کی عادت ڈالیں۔جو پردے کی عمر کو پہنچ چکی ہیں ان کے پردے کا خیال رکھیں۔گھروں میں بار بار کی نیک نصائح اور اپنے سے چھوٹی بچیوں کے لئے آپ کا نیک نمونہ آئندہ نسلوں کو دینی تعلیمات پر قائم کرتا چلا جائے گا۔میں کئی بارلجنہ کے اجتماعات اور جلسوں کی تقاریر میں بچیوں کی نیک تربیت کرنے اور پردے کی اہمیت کی طرف توجہ دلا چکا ہوں۔میری یہ نصائح بار بارسنیں اور اپنی بچیوں کو بھی سنائیں تا کہ کوئی دنیوی آلائشیں آپ کو دینی تعلیمات سے دور نہ لے جاسکیں۔“ پیغام برائے مجلس شوری لجنہ اماءاللہ پاکستان 2009 ء مطبوعہ افضل انٹرنیشنل 22 جنوری 2010ء) احساس کمتری کے نتیجہ میں بے پردگی کا رحجان بڑھتا ہے اور اسلامی تعلیم پر عمل نہ کرنے سے ایمان کے ضائع ہونے کا بھی خطرہ رہتا ہے۔اس حوالہ سے متنبہ کرتے ہوئے اپنے ایک خطبہ جمعہ میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے احباب جماعت سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا : ابتدا میں ایک برائی بظاہر بہت چھوٹی سی لگتی ہے یا انسان سمجھتا ہے کہ اس برائی نے اسے یا معاشرے کو کیا نقصان پہنچانا ہے۔لیکن جب یہ وسیع علاقے میں پھیل جاتی ہے یا بڑی تعداد میں لوگ اسے کرنے لگ جاتے ہیں یا اس برائی سے آنکھیں بند کر لیتے ہیں یا معاشرے کے ڈر سے اس کو برائی کہنے سے ڈرتے ہیں یا احساس کمتری میں آکر کہ شاید اس کے خلاف اظہار ہمیں معاشرے کی نظر میں گرانہ دے، وہ خاموش ہو جاتے ہیں یا عمل نہیں کرتے۔اس معاشرے کی بہت ساری باتیں ہیں جو معاشرے میں آزادی کے نام پر ہوتی ہیں اور حکومتیں بھی اس کو تسلیم کرلیتی ہیں لیکن وہ برائیاں ہیں۔پرده 111