پردہ — Page 71
معززین کالباس باوقار ہوتا ہے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے حیادار اور باوقار لباس زیب تن کرنے کو اعلی تہذیب اور اقدار سے ملاتے ہوئے یورپ کے اعلیٰ خاندانوں کی مثال بھی پیش پرده فرمائی۔حضور انور نے فرمایا: پھر گھروں کے ماحول کو جب آپ پاک کرلیں گی تو پھر آپ اس کوشش میں بھی رہیں گی کہ زمانے کی لغویات، فضولیات اور بدعات آپ کے گھروں پر اثر انداز نہ ہوں۔کیونکہ یہی چیزیں ہیں جوان پاک تبدیلیوں کی کوششوں کو گھن کی طرح کھا جاتی ہیں جس طرح لکڑی کو گھن کھا جاتا ہے۔یہاں اس معاشرے میں آج کل اس کو تہذیب یافتہ معاشرہ سمجھا جاتا ہے حالانکہ یہاں کی ہر چیز تہذیب یافتہ نہیں ہے ) یہ لوگ جو لہو و لعب میں پڑے ہوئے ہیں بڑے مہذب اور تہذیب یافتہ کہلاتے ہیں۔آزادی ضمیر کے نام پر سڑکوں گلیوں بازاروں میں بیہودہ حرکتیں ہو رہی ہیں۔لباس کی یہ حالت ہے کہ نہ ہونے کے برابر ہے۔اس ننگے لباس کو جس کو یہ لوگ تہذیب کہتے ہیں چند سال پہلے تک بھی بلکہ بعض ملکوں میں آج بھی جب وہاں کے مقامی لوگ، جنگلوں میں رہنے والے، تیسری دنیا کہ غریب ملکوں کے لوگ یہ کپڑے استعمال نہیں کرتے تو ان کو یہ بدتہذیب اور جنگلی کہتے ہیں اور اقدار سے عاری لوگ کہتے ہیں اور جب یہ لوگ خود ایسی حرکتیں کر رہے ہوں تو یہ حرکتیں تہذیب بن جاتی ہیں۔پس آپ لوگوں کو اس معاشرے سے اتنا متاثر ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ان کے اپنے ملکوں میں بھی آج سے چند دہائیاں پہلے، چند سال پہلے بلکہ آج بھی جو رائل (royal) فیملیاں ہیں، جو اونچے بڑے خاندان ہیں 71