پردہ — Page 65
دلہن اور شادی میں شریک خواتین بھی کریں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے شادی بیاہ کے موقع پر دلہن کے علاوہ تقریب میں شامل دیگر خواتین کو بھی کرنے کی طرف خصوصی توجہ دلاتے ہوئے واقفات ٹو کی ایک کلاس کے دوران ارشاد فرمایا: بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ کہیں نہیں کہا کہ جو دلہن نہیں ہے وہ کرلے اور جو دلہن ہے وہ نہ کرے، دلہن جو ہے وہ بڑی سچ کر دلہن بنے۔آج سے چودہ سو سال پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں دلہنیں بنتی تھیں۔اچھے کپڑے پہنتی تھیں۔دلہن بن کر عورتوں میں جب بیٹھی ہوں تو جس طرح بیٹھنا ہے بیٹھے، یہاں کی عیسائی دلہنیں بھی دیکھ لو وہ بھی جب اپنی شادیاں کرتی ہیں، چرچ میں جاتی ہیں تو انہوں نے بھی ایک سفید ویل (veil ) سالیا ہوتا ہے وہ اپنے آپ کو ڈھانکتی ہیں۔تو جب وہ لوگ جن کا نہیں ہے وہ بھی شادی پر اپنے آپ کو cover کرلیتی ہیں تو ہماری دلہنوں کو تو اور زیادہ کرنا چاہئے۔لیکن اگر دو پٹہ لے کر بیٹھی ہوئی ہیں، منہ ننگا ہے تو عورتوں میں تو ٹھیک ہے۔لیکن اس لئے کہ میک آپ کروا کر بیوٹی پارلر سے آئی ہے اور پھر جہاں میرج ہال (marriage hall) - اندر جانا ہے تو جاتے ہوئے ہمارا میک اپ خراب نہ ہو جائے ، ہمارا زیور یا جھومر لٹکے ہوئے ہیں وہ خراب نہ ہو جائیں تو یہ غلط چیز ہے۔اس لئے پوری طرح دو پٹہ ڈھانکو اور کے ساتھ مردوں میں سے گزرتے ہوئے ہال میں آجاؤ۔جب پارلر سے دلہن بن کر آتی ہے تو میک آپ کرنے کے بعد جو بھی غرارے یا جس لباس کے ساتھ بھی تیار ہوتی ہے اس کے بعد ایک چادر اوپر پرده 65