پردہ — Page 35
ہے۔اگر آپ پیسے کمانے کے لئے ایسا لباس پہن کر کام کریں جس سے آپ کے پردے پر حرف آتا ہوتو یہ کام اللہ تعالیٰ کو آپ کا متولی بننے سے روک رہا ہے۔یہ کام جو ہے اللہ تعالیٰ کو آپ کا دوست بننے سے، آپ کی ضروریات پوری کرنے سے روک رہا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ تو ایمان والوں کی ضروریات پوری کرتا ہے، تقویٰ پر چلنے والوں کی ضروریات پوری کرتا ہے۔کوئی بھی صالح عورت یہ برداشت نہیں کرسکتی کہ اس کا ننگ ظاہر ہو یا جسم کے اُن حصوں کی نمائش ہو جن کو چھپانے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔“ پرده ( خطاب از مستورات جلسہ سالانہ کینیڈا 25 جون 2005 ء۔مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 2 /مارچ 2007ء) اسی طرح سید نا حضرت خلیفہ امسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی نے حیا کو ایمان کا جز و قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”پھر اپنے آپ کو باحیا بنانا ہے۔کیونکہ یہ بھی ایمان کا حصہ ہے۔حیا بھی ایمان کا حصہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے عورت کو جس طرح اپنے آپ کو ڈھانپنے کا حکم دیا ہے اس طرح احتیاط سے ڈھانپ کر رکھنا چاہئے۔زینت ظاہر نہ ہو۔حیا کا تصور ہر قوم میں اور ہر مذہب میں پایا جاتا ہے۔آج مغرب میں جو بے حیائی پھیل رہی ہے اس سے کسی احمدی لڑکی کو کسی احمدی بچی کو کبھی متاثر نہیں ہونا چاہئے۔آزادی کے نام پر بے حیائیاں ہیں ، لباس ، فیشن کے نام پر بے حیائیاں ہیں۔اسلام عورت کو باہر پھر نے اور کام کرنے سے نہیں روکتا اُس کو اجازت ہے لیکن بعض شرائط کے ساتھ کہ تمہاری زینت ظاہر نہ ہو۔بے حجابی نہ ہو۔مرد اور عورت کے درمیان ایک حجاب رہنا چاہئے۔دیکھیں قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذکر میں بیان فرمایا ہے کہ جب وہ اُس جگہ پہنچے جہاں 35