پردہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 24 of 222

پردہ — Page 24

پرده دی ہے کہ ہم ان بیگا نہ جوان عورتوں کا گانا بجانا سن لیں اور ان کے حسن کے قصے بھی سنا کریں لیکن پاک خیال سے سنیں بلکہ ہمیں تاکید ہے کہ ہم نامحرم عورتوں کو اور ان کی زینت کی جگہ کو ہر گز نہ دیکھیں۔نہ پاک نظر سے اور نہ ناپاک نظر سے۔اور ان کی خوش الحانی کی آواز میں اور ان کے حسن کے قصے نہ سنیں۔نہ پاک خیال سے اور نہ ناپاک خیال سے۔بلکہ ہمیں چاہئے کہ ان کے سننے اور دیکھنے سے نفرت رکھیں جیسا کہ مردار سے، تا ٹھوکر نہ کھاویں۔کیونکہ ضرور ہے کہ بے قیدی کی نظروں سے کسی وقت ٹھوکریں پیش آویں۔سو چونکہ خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ ہماری آنکھیں اور دل اور ہمارے خطرات سب پاک رہیں اس لئے اس نے یہ اعلیٰ درجہ کی تعلیم فرمائی۔اس میں کیا شک ہے کہ بے قیدی ٹھوکر کا موجب ہو جاتی ہے۔66 اسلامی اصول کی فلاسفی۔روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 343-344)۔۔۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : وہ جس کی زندگی ناپاکی اور گندے گناہوں سے ملوث ہے وہ ہمیشہ خوفزدہ رہتا ہے اور مقابلہ نہیں کر سکتا۔ایک صادق انسان کی طرح دلیری اور جرات سے اپنی صداقت کا اظہار نہیں کر سکتا اور اپنی پاک دامنی کا ثبوت نہیں دے سکتا۔دنیوی معاملات میں ہی غور کر کے دیکھ لو کہ کون ہے جس کو ذراسی بھی خدا نے خوش حیثیتی عطا کی ہو اور اس کے حاسد نہ ہوں۔ہر خوش حیثیت کے حاسد ضرور ہو جاتے ہیں اور ساتھ ہی لگے رہتے ہیں۔یہی حال دینی امور کا ہے۔شیطان بھی اصلاح کا دشمن ہے۔پس انسان کو چاہئے کہ اپنا حساب صاف رکھے اور خدا سے معاملہ درست رکھے۔خدا کو راضی کرے پھر کسی سے خوف نہ کھائے اور نہ کسی کی پروا کرے۔ایسے معاملات سے پر ہیز کرے جن سے خود ہی مورد عذاب ہو جاوے مگر یہ سب کچھ بھی تائید غیبی اور توفیق الہی کے سوا نہیں ہوسکتا۔صرف انسانی کوشش کچھ بنا نہیں سکتی جب تک خدا کا۔24