پردہ — Page 193
اور اس کے مطابق اطاعت کرو۔قرآن اور رسول کا حکم جب پیش کیا جائے تو فوراً مانو۔اس بارے میں میں بہت مرتبہ کھل کر بتا بھی چکا ہوں۔پس جہاں مردوں کے ساتھ عورتیں اپنے عبادتوں کے معیار بلند کریں ، اپنے ایمان میں ترقی کی کوشش کریں وہاں وہ خاص حکم جوعورتوں کو ہیں ان پر بھی عمل کرنے کی کوشش کریں۔یہاں یہ بھی واضح کر دوں کہ پردے کے بارہ میں اپنے آپ کو ڈھانکنے کا حکم گوعورت کو ہے لیکن اپنی نظریں نیچی رکھنے کا اور زیادہ بے تکلفی سے بچنے کا حکم مرد اور عورت دونوں کو ہے۔بلکہ اپنی نظریں نیچی رکھنے کا حکم پہلے مردوں کو ہے پھر عورتوں کو ہے تا کہ مرد بے حجابی سے نظریں نہ ڈالتے پھریں۔“ ( خطبہ جمعہ فرمودہ 30 ستمبر 2011 بمقام مسجد اوسلو ناروے۔مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 21 اکتوبر 2011ء) اسلامی تعلیمات کی روشنی میں حیا ہی دراصل ایک عورت کا سنگھار ہوتا ہے۔اس حوالہ سے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے احمدی خواتین کو مخاطب کرتے ہوئے اپنے ایک خطاب میں فرمایا: ایک ایسا اسلامی حکم ہے جس کی وضاحت قرآن کریم میں موجود ہے۔اس لئے یہاں کے ماحول کے زیر اثر اپنے حجاب اور کوٹ نہ اتار دیں۔میں نے دیکھا ہے بعض خواتین صرف پتلا دو پٹہ لے کر سڑکوں پر آ جاتی ہیں۔یہ پردے کی تعلیم کے مطابق نہیں ہے۔بعضوں کے بازو ننگے ہوتے ہیں۔اکثر کے کوٹ جو ہیں گھٹنوں سے اوپر ہوتے ہیں۔فیشن کی طرف رجحان زیادہ ہے اور کی طرف کم۔کریں تو اس سوچ کے ساتھ کریں کہ حیا ایمان کا حصہ ہے۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ حیا اسلام کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت ہے۔(صحیح بخاری کتاب الایمان باب الحياء من الايمان حدیث (24) عورت کی حیا، اُس کا وقار، اُس کا تقدس، اُس کا رکھ رکھاؤ ہے۔اس چیز کو پرده 193