پردہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 192 of 222

پردہ — Page 192

پرده قرآن اس کی نفی کرتا ہے اور ایک مومنہ کو تا کیدی حکم دیتا ہے کہ تمہارے پر اور حجاب فرض ہے۔حیا کا اظہار تمہاری شان ہے۔اگر لجنہ کی ہر سطح کی عہد یدار خواہ وہ حلقہ کی ہوں، شہر کی ہوں یا ملک کی ہوں، اگر عہدیدار اپنے پردے ٹھیک کرلیں اور اپنے رویے اسلامی تعلیم کے مطابق کرلیں تو ایک اچھا خاصہ طبقہ باقیوں کے لئے بھی ، اپنے بچوں کے لئے بھی اور اپنے ماحول کے لئے بھی نمونہ بن جائے گا۔ایک لجنہ کی عہدیدار کا امانت کا حق تبھی ادا ہو گا جب وہ اور باتوں کے ساتھ ساتھ اپنے کا حق بھی ادا کر رہی ہوگی۔مجھے بعض کے کا حال تو ملاقات کے دوران پتہ چل جاتا ہے جب اُن کی نقابیں دیکھ کر یہ ظاہر ہورہا ہوتا ہے کہ بڑے عرصے کے بعد یہ نقاب باہر آئی ہے جس کو پہننے میں دقت پیدا ہورہی ہے۔پس عہدے دار بھی اور ایک عام احمدی عورت کا بھی یہ فرض ہے کہ اپنی امانتوں کا حق ادا کریں۔آج کل اپنے زعم میں بعض ماڈرن سوچ رکھنے والے کہہ دیتے ہیں کہ پردے کی اب ضرورت نہیں ہے یا حجاب کی اب ضرورت نہیں ہے اور یہ پرانا حکم ہے۔لیکن میں واضح کر دوں کہ قرآن کریم کا کوئی حکم بھی پرانا نہیں ہے اور نہ کسی مخصوص زمانے اور مخصوص لوگوں کے لئے تھا۔احمدی مرد اور عورتیں خلافت سے وابستگی کا اظہار بڑے شوق سے کرتے ہیں ، جہاں اللہ تعالیٰ نے خلافت جاری رہنے کا قرآن کریم میں ارشاد فرمایا ہے وہاں عبادتوں اور اعمالِ صالحہ سے اس کو مشروط بھی کیا ہے۔سورۃ نور میں جہاں یہ آیت ہے اس سے دو آیات پہلے یہ بیان فرمایا ہے کہ یہ دعویٰ نہ کرو کہ ہم یہ کر دیں گے اور وہ کر دیں گے بلکہ فرمایا طاعة مَعْرُوفَةٌ کا اظہار کرو۔ایسی اطاعت کرو جو عام اطاعت ہے۔ہر اُس معاملے میں اطاعت کرو جو قرآن اور رسول کے حکم کے مطابق تمہیں کہا جائے۔اس پر عمل کرو 192