پردہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 183 of 222

پردہ — Page 183

ہوتا ہے پر دے کو بھی جاری رکھنا ہے۔اس کے ساتھ حیا کا پہلو بھی ہو۔صرف حجاب لینے سے نہیں ہو جاتا۔جب تک حیا نہیں ہوگی عورت ، مردلڑکے لڑکی کے آپس کے میل جول میں علیحدگی نہیں ہوگی۔ایک بیرئیر (barrier) ہونا چاہئے۔کسی کو جرأت نہ ہو کہ غلط نظر ڈالے کسی لڑکی پر اور واقفاتِ نو کے نمونے جو ہوں گے تو آئندہ دوسروں کی اصلاح کا باعث بننے والے ہوں گے۔پس ہمیشہ یہ یاد رکھیں کہ آپ کا قرآنی حکم کے مطابق ہونا چاہئے کہ جب وہ باہر نکلے تو کسی قسم کی زینت اور حسن عورت کا لڑکی کا دوسروں کو نظر نہ آتا ہو۔سر ڈھکا ہو، بالوں کا ہے، چہرے کا ہے۔ضروری نہیں ہے کہ ناک بند کر کے ہی چلنا ہے۔اگر میک اپ نہیں کیا ہوا، ٹھوڑی ، ماتھا ، اور بالوں کا جو ہے وہ ٹھیک ہے لیکن اگر میک آپ کیا ہوا ہے تو بہر حال چہرہ چھپانا ہوگا۔پھر اگلے معیار بڑھتے ہیں جو بعض لڑکیاں پاکستان سے آتی ہیں وہاں نقاب اور برقع پہن کر آتی ہیں یہاں آکر سکارف لینے لگ جاتی ہیں۔تو وہ غلط ہے۔ایک اچھا معیار جو پردے کا اختیار کیا ہے تو اس کو قائم رکھنا چاہئے۔اچھائی سے برائی کی طرف، نیچے نہیں آنا چاہئے، معیار او پر جانا چاہیئے۔افریقہ کا ابھی پروگرام ہورہا تھا لڑکوں میں۔وہاں اگر مسلمان ہوتی ہیں Pagans میں سے، لامذہبوں میں سے، عیسائیوں میں سے، تو ان کے پردے کا معیار بالکل نہیں ہے لیکن جب کرتی ہیں تو ان کے لئے لباس پہن لینا اور اپنے آپ کو ڈھانک لینا ہی بہت بڑا پر دہ ہے۔ان میں سے بعض جب ترقی کرتی ہیں روحانی لحاظ سے تو برقع بھی پہنتی ہیں۔تو ایک اچھی مومنہ کا جو لیول ہے اوپر جانا چاہئے۔واقفات نو کو ہمیشہ یہ ذہن میں رکھنا چاہئے کہ وہ نمونہ ہیں دوسروں کے لئے۔آپ لوگوں کو دوسری بچیاں دوسری عورتیں دیکھتی ہیں۔اگر آپ کے نمونے قائم نہیں ہوں گے تو کوئی فائدہ نہیں پرده 183