پردہ — Page 167
بھی واضح فرمائی۔فرمایا اگر کہیں مردوں سے رابطہ ہو جائے تو انہیں پھر مردوں کے پتے دے دیں۔اپنے فورم میں صرف عورتوں کو لے کر آئیں۔اور اگر کسی جگہ عورتیں پوری طرح جواب نہ دے سکتی ہوں اور کوئی مکس گیدرنگ (mix gathering) ہو تو اپنے ساتھ لائی ہوئی مہمان خاتون کو لے کر ایک سائیڈ میں بیٹھیں اور پردے کا خیال رکھیں لیکن جب کھانے پینے کا وقت آئے تو اس وقت مکس گیدرنگ میں نہیں بیٹھنا بلکہ علیحدہ انکلوژر (en-closure) میں چلی جائیں اور جو عورتیں اکٹھی مجالس میں ملیں ان کے پتے حاصل کر کے ان کو صرف عورتوں کی مجالس میں بلائیں۔اس صورت میں ان کے ذہنوں میں یہ سوال بھی اٹھیں گے کہ آپ مکس مجالس میں کیوں نہیں آتیں ؟ اس پر آپ اسلامی کے متعلق وہاں ان کی غلط فہمیاں بھی دور کر سکتی ہیں۔( یہاں پر حضور انور نے دریافت فرمایا کہ سیکس گیدرنگ وہی ہیں نا جن کو آپ open day کہتی ہیں؟ حضور کو بتایا گیا۔جی ) حضور نے فرمایا کہ یونیورسٹی کی طالبات کے جن سے روابط ہوں ان کی علیحدہ gathering ہو سکتی ہیں۔“ میٹنگ نیشنل مجلس عاملہ لجنہ اماءاللہ جرمنی 9 رجون 2006ء۔مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 7 جولائی 2006ء) حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ایک موقع پر نیشنل مجلس عاملہ لجنہ اماء الله جرمنی کے ساتھ میٹنگ میں کئی اہم ہدایات سے نوازا جن میں سے بعض کا تعلق سے بھی ہے۔حضور انور ایدہ اللہ نے فرمایا:۔پڑھی لکھی لڑکیوں کو شامل کر کے کے موضوع پر ایم ٹی اے کے لئے پر گفتگو کا پروگرام بنائیں، جس میں اس اسلامی حکم کا مقصد بیان کریں۔اس موضوع پر بائبل کے حوالہ جات سے بات کریں اور بتائیں کہ عیسائیت نے عورت کو کمتر سمجھتے ہوئے کا حکم دیا ہے جبکہ اسلام نے عورت کے تقدس اور اس کے مقام کو بلند کرنے کے لئے یہ حکم دیا ہے۔پھر کی مخالفت کرنے والے لوگوں کو بتائیں کہ پرده 167