پردہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 162 of 222

پردہ — Page 162

پرده کام سے باہر نکلوں گی تو حجاب لے لوں گی۔کہتی ہے کہ میں نے سنا تھا کہ آپ نے کہا تھا کہ کام والی لڑکیاں اپنے کام کی جگہ پر اپنا برقع ، حجاب اتار کر کام کرسکتی ہیں۔اس بچی میں کم از کم اتنی سعادت ہے کہ اس نے پھر ساتھ یہ بھی لکھ دیا کہ آپ منع کریں گے تو کام نہیں کروں گی۔یہ اس لئے بیان کر رہا ہوں کہ یہ ایک نہیں کئی لڑکیوں کے سوال ہیں، تو پہلی بات یہ ہے کہ میں نے اگر کہا تھا تو ڈاکٹرز کو بعض حالات میں مجبوری ہوتی ہے۔وہاں روایتی برقع یا حجاب پہن کر کام نہیں ہوسکتا۔مثلاً آپریشن کرتے ہوئے۔ان کا لباس وہاں ایسا ہوتا ہے کہ سر پر بھی ٹوپی ہوتی ہے، ماسک بھی ہوتا ہے، ڈھیلا ڈھالا لباس ہوتا ہے۔اس کے علاوہ تو ڈاکٹر بھی پردے میں کام کر سکتی ہیں۔ربوہ میں ہماری ڈاکٹر ز تھیں۔ڈاکٹر فہمیدہ کو ہمیشہ ہم نے میں دیکھا ہے۔ڈاکٹر نصرت جہاں تھیں بڑا پکا کرتی تھیں۔یہاں سے بھی انہوں نے تعلیم حاصل کی اور ہر سال اپنی قابلیت کونئی ریسرچ کے مطابق ڈھالنے کے لئے ، اس کے مطابق کرنے کے لئے یہاں لندن بھی آتی تھیں لیکن ہمیشہ میں رہیں بلکہ وہ کی ضرورت سے زیادہ پابند تھیں۔ان پر یہاں کے کسی شخص نے اعتراض کیا ، نہ کام پر اعتراض ہوا ، نہ ان کی پیشہ ورانہ مہارت میں اس سے کوئی اثر پڑا۔آپریشن بھی انہوں نے بہت بڑے بڑے کئے تو اگر نیت ہو تو دین کی تعلیم پر چلنے کے راستے نکل آتے ہیں۔اسی طرح میں نے ریسرچ کرنے والیوں کو کہا تھا کہ کوئی بچی اگر اتنی لائق ہے کہ ریسرچ کر رہی ہے اور وہاں لیبارٹری میں ان کا خاص لباس پہنا پڑتا ہے تو وہ وہاں اس ماحول کا لباس پہن سکتی ہیں بیشک حجاب نہ لیں۔وہاں بھی انہوں نے ٹوپی وغیرہ پہنی ہوتی ہے لیکن باہر نکلتے ہی وہ ہونا چاہئے جس کا اسلام نے حکم دیا ہے۔بینک کی نوکری کوئی ایسی نوکری نہیں ہے کہ جس سے انسانیت کی خدمت 162