پردہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 140 of 222

پردہ — Page 140

پرده چھوٹے بلاؤز جو ہیں ایک احمدی بچی کو زیب نہیں دیتے۔تو آہستہ آہستہ بچپن سے ذہنوں میں ڈالی ہوئی بات اثر کرتی جائے گی اور بلوغت کو پہنچ کر حجاب یا سکارف اور لمبا کوٹ پہنے کی طرف خود بخود توجہ پیدا ہو جائے گی۔ورنہ پھر ان کی یہی حالت ہوگی جس طرح بعض بچیوں کی ہوتی ہے۔مجھے شکایتیں ملتی رہتی ہیں دنیا سے اور یہاں سے بھی کہ مسجد میں آتے ہوئے ، جماعتی فنکشن پر آتے ہوئے تو سر ڈھکا ہوا ہوتا ہے، لباس بڑا اچھا پہنا ہوا ہوتا ہے اور باہر پھرتے ہوئے سر پر دوپٹہ بھی نہیں ہوتا بلکہ دو پٹہ سرے سے غائب ہوتا ہے، سکارف کا تو سوال ہی نہیں۔پس مائیں اگر اپنے عمل سے بھی اور نصائح سے بھی بچیوں کو توجہ دلاتی رہیں گی ، یہ احساس دلاتی رہیں گی کہ ہمارے لباس حیادار ہونے چاہئیں اور ہمارا ایک تقدس ہے تو بہت سی قباحتوں سے وہ خود بھی بچ جائیں گی اور ان کی بچیاں بھی بچ جائیں گی۔اگر ہم اپنے جذبات کی چھوٹی چھوٹی قربانیوں کے لئے تیار نہیں ہوں گے تو بڑی بڑی قربانیاں کس طرح دے سکتے ہیں۔“ ( خطاب از مستورات جلسہ سالانہ کینیڈا 28 جون 2008ء۔مطبوعہ افضل انٹرنیشنل 15 جولائی 2011ء) حدیث مبارکہ میں ماؤں کے قدموں کے نیچے جنت کی بشارت دیئے جانے کے انعام کا ذکر ہے لیکن اس حوالہ سے ماؤں پر بچوں کی عمدہ تربیت کی ذمہ داری بھی عائد کی گئی ہے۔چنانچہ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: احمدی ماؤں کا بھی یہ کام ہے کہ اپنے بچوں کی اس رنگ میں تربیت کریں کہ اللہ تعالی پر کامل ایمان اور اُس کو راضی کرنے کے لئے ہر کوشش اُس کی اولین ترجیح ہو اور یہ اُس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک احمدی مائیں بھی اپنے آپ کو ایمان کے اعلیٰ معیار تک لے جانے کی کوشش نہیں کریں گی۔ماؤں کے قدموں میں جو جنت رکھی گئی ہے وہ اس لئے ہے کہ جہاں اُن کا اپنا ایمان اور 140