پردہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 12 of 222

پردہ — Page 12

پرده دیکھیں۔جب بھی نظر اٹھا کر پھریں گے تو پھر تجسس میں آنکھیں پیچھا کرتی چلی جاتی ہیں اس لئے قرآن شریف کا حکم ہے کہ نظریں جھکا کے چلو۔اسی بیماری سے بچنے کے لئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ نیم وا آنکھوں سے چلو۔یعنی ادھ کھلی آنکھوں سے، راستوں پر پوری آنکھیں پھاڑ کر نہ چلو۔بند بھی نہ ہوں کہ ایک دوسرے کو ٹکریں مارتے پھرو لیکن اتنی کھلی ہوں کہ کسی بھی قسم کا تجسس ظاہر نہ ہوتا ہو کہ جس چیز پر ایک دفعہ نظر پڑ جائے پھر اس کو دیکھتے ہی چلے جانا ہے۔نظر کس طرح ڈالنی چاہئے اس کی آگے حدیث سے وضاحت کروں گا۔لیکن اس سے پہلے علامہ طبری کا جو بیان ہے وہ پیش کرتا ہوں۔وہ کہتے ہیں کہ : 66 غضِ بصر سے مراد اپنی نظر کو ہر اس چیز سے روکنا ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے روکا ہے۔“ ( تفسیر الطبری جلد 18 صفحہ 116۔117) تو مردوں کے لئے تو پہلے ہی حکم ہے کہ اپنی نظریں نیچی رکھو۔اور اگر مرد اپنی نظریں نیچی رکھیں گے تو بہت سی برائیوں کا تو یہیں خاتمہ ہو جاتا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ہر ایک پرہیز گار جو اپنے دل کو پاک رکھنا چاہتا ہے اس کو نہیں چاہئے کہ حیوانوں کی طرح جس طرف چاہے بے محابا نظر اٹھا کر دیکھ لیا کرے بلکہ اس کے لئے اس تمدنی زندگی میں غض بصر کی عادت ڈالنا ضروری ہے اور یہ وہ مبارک عادت ہے جس سے اس کی یہ طبعی حالت ایک بھاری خلق کے رنگ میں آجائے گی۔“ رپورٹ جلسہ اعظم مذاہب صفحہ 102 - 103 بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعود جلد سوم صفحہ 444) پھر مومن عورتوں کے لئے حکم ہے کہ محض بصر سے کام لیں اور آنکھیں نیچی رکھا کریں۔اگر عورت اونچی نظر کر کے چلے گی تو ایسے مرد جن کے دلوں پر شیطان نے 12