پردہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 131 of 222

پردہ — Page 131

پرده کے نام پر اس قسم کی باتوں میں دلچسپی رکھتے ہیں اور اپنے قصے اور کہانیاں سناتے ہیں اور دوسروں کو بھی اس طرف راغب کر رہے ہوتے ہیں۔نہ ہی سکائپ (skype) اور فیس بک (facebook) وغیرہ پر مرد اور عورت نے ایک دوسرے سے بات چیت کرنی ہے، ایک دوسرے کی شکلیں دیکھنی ہیں، نہ ہی ان چیزوں کو ایک دوسرے سے تعلقات کا ذریعہ بنانا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے سب ظاہر یا چھپی ہوئی فحشاء ہیں جن کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تم اپنے جذبات کی رو میں زیادہ بہہ جاؤ گے، تمہاری عقل اور سوچ ختم ہو جائے گی اور انجام کار اللہ تعالی کے حکم کو توڑ کر اُس کی ناراضگی کا 66 موجب بن جاؤ گے۔“ ( خطبہ جمعہ فرموده 2 /اگست 2013ء مسجد بیت الفتوح لندن۔مطبوعہ افضل انٹرنیشنل 23 اگست 2013ء) حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے متعد د خطابات میں معاشرہ میں بے حیائی کی بڑھتی ہوئی روش کو انسانی اخلاقیات کے لئے انتہائی خطرناک قرار دیا ہے نیز اس سے اپنے آپ کو بچانے کے لئے محض بصر یعنی نظروں کے نیچا کر لینے کی اسلامی تعلیم کی روشنی میں نصائح بھی فرمائی ہیں۔چنانچہ اپنے ایک خطاب میں فرمایا: جیسا کہ میں نے کہا لباس بے حیائی والا لباس ہوتا چلا جارہا ہے۔پھر بڑے بڑے اشتہاری بورڈ کے ذریعہ سے، ٹی وی پر اشتہارات کے ذریعہ سے، انٹرنیٹ پر اشتہارات کے ذریعہ سے بلکہ اخباروں کے ذریعہ سے بھی اشتہار دیے جاتے ہیں کہ شریف آدمی کی نظر اس پر پڑ جاتی تو شرم سے نظر جھک جاتی ہے اور جھکنی چاہئے۔یہ سب کچھ ماڈرن سوسائٹی کے نام پر، روشن خیالی کے نام پر ہوتا ہے۔بہر حال جیسا کہ میں نے کہا یہ زینت اب بے حیائی بن چکی ہے یعنی زینت کے نام پر بے حیائی کی اشتہار بازی ہے۔“ (خطاب از مستورات جلسه سالانہ جرمنی 29 جون 2013ء بمقام کا لسروئے۔مطبوعہ افضل انٹرنیشنل 18 اکتوبر 2013ء) 66 131