پردہ — Page 130
پرده۔اسلام صرف ظاہری بے حیائیوں سے نہیں روکتا بلکہ چھپی ہوئی بے حیائیوں سے بھی روکتا ہے۔اور پر دے کا جو حکم ہے وہ بھی اسی لئے ہے کہ پر دے اور حیا دار لباس کی وجہ سے ایک کھلے عام تعلق اور بے تکلفی میں جولڑ کے اور لڑکی میں پیدا ہو جاتی ہے، ایک روک پیدا ہوگی۔اسلام بائبل کی طرح یہ نہیں کہتا کہ تم عورت کو بری نظر سے نہ دیکھو بلکہ کہتا ہے کہ نظریں پڑیں گی تو قربت بھی ہو گی اور پھر بے حیائی بھی پیدا ہوگی۔اچھے برے کی تمیز ختم ہوگی۔اور پھر ایسے کھلے عام میل جول سے جب اس طرح لڑکا اور لڑکی ، مرد اور عورت بیٹھے ہوں گے تو اللہ اور اُس کے رسول ملالیم کے حکم کے مطابق تیسرا تم میں شیطان ہو گا۔(سنن الترمذی کتاب الرضاع باب ما جاء في كراهية الدخول على المغيبات حدیث نمبر 117 ) یہ جو انٹرنیٹ وغیرہ کی میں نے مثال دی ہے، اس میں فیس بک (facebook) اور سکائپ (skype) وغیرہ سے جو پچیٹ (chat) وغیرہ کرتے ہیں، یہ شامل ہے۔کئی گھر اس سے میں نے ٹوٹتے دیکھے ہیں۔بڑے افسوس سے میں کہوں گا کہ ہمارے احمدیوں میں بھی اس طرح کے واقعات ہوتے ہیں۔پس خدا تعالیٰ کے اس حکم کو ہمیشہ سامنے رکھنا چاہئے کہ فحشاء کے قریب بھی نہیں پھٹکنا کیونکہ شیطان پھر تمہیں اپنے قبضے میں کرلے گا۔پس یہ قرآن کریم کے حکم کی خوبصورتی ہے کہ یہ نہیں کہ نظر اٹھا کے نہیں دیکھنا، اور نہ نظریں ملانی ہیں بلکہ نظروں کو ہمیشہ نیچے رکھنا ہے اور یہ حکم مرد اور عورت دونوں کو ہے کہ اپنی نظریں نیچی رکھو۔اور پھر جب نظریں نیچی ہوں گی تو پھر ظاہر ہے یہ نتیجہ بھی نکلے گا کہ جو آزادانہ میل جول ہے اُس میں بھی روک پیدا ہو گی۔پھر یہ بھی ہے کہ فحشاء کو نہیں دیکھنا، تو جو بیہودہ اور لغو اور مخش فلمیں ہیں، جو وہ دیکھتے ہیں اُن سے بھی روک پیدا ہوگی۔پھر یہ بھی ہے کہ ایسے لوگوں میں نہیں اُٹھنا بیٹھنا جو آزادی 130