پردہ — Page 129
facebook ہے وہاں لڑکے اور لڑکیاں ایسی جگہ پر چلے جاتے ہیں جہاں برائیاں پھیلنی شروع ہو جاتی ہیں۔لڑکے تعلق بناتے ہیں۔بعض جگہ لڑکیاں trap ہو جاتی ہیں اور facebook پر اپنی بے تصاویر ڈال دیتی ہیں۔گھر میں ، عام ماحول میں ، آپ نے اپنی سہیلی کو تصویر بھیجی ، اس نے آگے اپنی فیس بک پر ڈال دی اور پھر پھیلتے پھیلتے ہمبرگ سے نکل کر نیو یارک (امریکہ ) اور آسٹریلیا پہنچی ہوتی ہے اور پھر وہاں سے رابطے شروع ہو جاتے ہیں۔اور پھر گروپس بنتے ہیں مردوں کے، عورتوں کے اور تصویروں کو بگاڑ کر آگے بلیک میل کرتے ہیں۔اس طرح برائیاں زیادہ پھیلتی ہیں۔اس لئے یہی بہتر ہے کہ برائیوں میں جایا ہی نہ جائے۔“ پرده کلاس واقفات نو 8 اکتوبر 2011ء جرمنی مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 6 جنوری 2012ء) اسی طرح ایک موقع پر حضور انور ایدہ اللہ نے لڑکیوں اور لڑکوں کے سوشل میڈیا پر بے حجابانہ روابط اور بے جا آزادی کے بدنتائج سے متنبہ کرتے ہوئے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان فواحش کے قریب بھی نہ جاؤ۔یعنی ایسی تمام باتیں جو فحشاء کی طرف مائل کرتی ہیں اُن سے رُکو۔اس زمانے میں تو اس کے مختلف قسم کے ذریعے نکل آئے ہیں۔اس زمانے میں انٹرنیٹ ہے، اس پر بیہودہ فلمیں آ جاتی ہیں۔ویب سائٹس پر ، ٹی وی پر بیہودہ فلمیں ہیں۔بیہودہ اور لغوقسم کے رسالے ہیں، ان بیہودہ رسالوں کے بارہ میں جو پورنوگرافی (pornography) وغیرہ کہلاتے ہیں اب یہاں بھی آواز اُٹھنے لگ گئی ہے کہ ایسے رسالوں کو سٹالوں اور دکانوں پر کھلے عام نہ رکھا جائے کیونکہ بچوں کے اخلاق پر بھی بُرا اثر پڑ رہا ہے۔ان کو تو آج یہ خیال آیا ہے لیکن قرآن کریم نے چودہ سوسال پہلے یہ حکم دیا کہ یہ سب بے حیائیاں ہیں، ان کے قریب بھی نہ پھٹکو۔یہ تمہیں بے حیا بنا دیں گی۔تمہیں خدا سے دور کر دیں گی، دین سے دُور کر دیں گی بلکہ قانون توڑنے والا بھی بنا دیں گی۔۔129