پردہ — Page 123
پرده کی بدنظر سے اپنے آپ کو بچانا ہے اس لئے اپنے معیاروں کو بالکل ایک رکھیں، دوہرے معیار نہ بنائیں یہاں کی پڑھی لکھی لڑکیاں یہاں کی پرورش پانے والی لڑکیاں ان میں ایک خوبی بہر حال ہے کہ ان میں ایک سچائی ہے، صداقت ہے، ان کو اپنا سچائی کا معیار بہر حال قائم رکھنا چاہئے۔یہاں نوجوان نسل میں ایک خوبی ہے کہ انہیں برداشت نہیں کہ دوہرے معیار ہوں اس لئے اس معاملے میں بھی اپنے اندر یہ خوبی قائم رکھیں کہ دوہرے معیار نہ ہوں۔اپنے لباس کو ایسا رکھیں جو ایک حیا والا لباس ہو۔دوسرے جو پردے کی عمر کو پہنچ گئی ہیں وہ اپنے لباس کی خاص طور پر احتیاط کریں اور کوٹ اور حجاب وغیرہ کے ساتھ اور پردے کے ساتھ رہنے کی کوشش کریں۔غیروں سے پردے کا حکم اللہ تعالیٰ نے ہر جگہ دیا ہوا ہے۔یہ کہیں نہیں لکھا کہ خاوندوں کے دوستوں یا بھائیوں کے دوستوں سے اگر وہ گھر میں آجائیں تو چھوڑنے کی اجازت ہے۔یا بازار میں جانا ہے تو چھوڑنے کی اجازت ہے یا تفریح کے لئے پھرنا ہے تو چھوڑنے کی اجازت ہے۔حیادار لباس بہر حال ہونا چاہئے اور جو پردے کی عمر میں ہے ان کو ایسالباس پہننا چاہئے جس سے احمدی عورت پر یہ انگلی نہ اٹھے کہ یہ بے عورت ہے۔کام پر اگر مجبوری ہے تو تب بھی پورا ڈھکا ہوا لباس ہونا چاہئے اور حجاب ہونا چاہئے۔تو جس طرح جماعتی فنکشن پر ہونا ضروری ہے عام زندگی میں بھی اتنا ہی ضروری ہے۔“ خطاب از مستورات جلسہ سالانہ یو کے 30 جولائی 2005 ء مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 11 مئی 2007ء) سید نا حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ایک موقع پر احمدی خواتین سے خطاب فرماتے ہوئے اسلامی تاریخ کی روشنی میں باحیا اور با مسلمان خواتین کے حوالہ سے احمدی خواتین کو با زندگی گزارنے کی پُرحکمت نصائح کرتے ہوئے فرمایا: 123