پردہ — Page 122
پرده ہے۔احمدی معاشرے میں اس نمایاں ہونے کے اظہار کا اپنا طریق ہے۔شاید یہاں ایک آدھ مثال کہیں ملتی ہو جہاں حیا کو زینت نہ سمجھا جاتا ہو لیکن عموماً احمدی لڑکی اور احمدی عورت اپنے لباس میں حیا کے پہلو کو مد نظر رکھتی ہے۔جبکہ مغرب میں جیسا کہ میں نے کہا یہاں معاشرے میں حیا کا تصور ہی اٹھ گیا ہے اس لئے یہاں ان قوموں میں جو لباس ہے یہ یا تو موسم کی سختی سے بچنے کے لئے پہنتے ہیں یا فیشن کے لئے۔اللہ تعالیٰ ہی ان لوگوں کو عقل دے اور خدا کا خوف ان میں پیدا ہو۔بہر حال ہم جب بات کرتے ہیں احمدی معاشرہ کی عورت کی کرتے ہیں۔لیکن اس معاشرے میں رہنے کی وجہ سے خطرہ ہے کہ کہیں ا گاڈ کا کوئی احمدی لڑکی ان سے متاثر نہ ہو جائے۔بہر حال میں ذکر کر رہا تھا کہ یہ خطرہ ہے کہ اس معاشرے کا اثر کہیں احمدیوں پر بھی نہ پڑ جائے۔عموماً اب تک تو اللہ تعالیٰ نے محفوظ رکھا ہوا ہے شاید اکا دُکا کوئی مثال ہو اس کے علاوہ لیکن یہ جوفکر ہے یہ مجھے اس لئے پیدا ہورہی ہے کہ اس کی طرف پہلا قدم ہمیں اٹھتا ہوا نظر آرہا ہے۔کیونکہ اس معاشرے میں آتے ہی جو پردے کی اہمیت ہے وہ نہیں رہی۔وہ اہمیت پر دے کو نہیں دی جاتی جس کا اسلام ہمیں حکم دیتا ہے۔میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ احمدی عورت کو پردے کا خیال از خودرکھنا چاہئے۔خود اس کے دل میں احساس پیدا ہونا چاہئے کہ ہم نے کرنا ہے، نہ یہ کہ اسے یاد کروایا جائے۔احمدی عورت کو تو پردے کے معیار پرایسا قائم ہونا چاہئے کہ اس کا ایک نشان نظر آئے اور یہ پردے کے معیار جو ہیں ہر جگہ ایک ہونے چاہئیں۔یہ نہیں کہ جلسہ پر یا اجلاسوں پر یا مسجد میں آئیں تو حجاب اور پردے میں ہوں، بازاروں میں پھر رہی ہوں تو بالکل اور شکل نظر آتی ہو۔احمدی عورت نے اگر کرنا ہے تو اس لئے کرنا ہے کہ خدا تعالیٰ کا حکم ہے اور معاشرے 122