پردہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 120 of 222

پردہ — Page 120

پرده بہانے بنانے لگ جاتی ہیں۔پس ایسے حالات میں احمدیوں کو پہلے سے بڑھ کر زیادہ محتاط ہونا چاہئے۔اگر اسکولوں میں چھوٹے بچوں کے لئے بعض ملکوں میں سوئمنگ لازمی ہے تو پھر چھوٹے بچے بچیاں پورا لباس پہن کر یعنی جو سوئمنگ کالباس پورا ہوتا ہے جسے آجکل برقینی (burkini) کہتے ہیں وہ پہن کر سوئمنگ کریں۔تا کہ ان کو احساس پیدا ہو کہ ہم نے بھی حیادار لباس رکھنا ہے۔ماں باپ بھی بچوں کو سمجھائیں کہ لڑکوں اور لڑکیوں کی علیحدہ سوئمنگ ہونی چاہئے۔اس کے لئے کوشش بھی کرنی چاہئے۔“ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے مزید فرمایا: پس یہ ہے اسلام کی تعلیم مردوں کے لئے کہ انہیں پہلے ہر طرح پابند کیا گیا ہے۔پھر عورتوں کو حکم دیا ہے کہ ان احتیاطوں کے بعد بھی تم نے بھی اپنے کا خیال رکھنا ہے۔اور ان ملکوں میں جہاں بالکل ہی بے حیائی ہے ہم کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ پردے کی ضرورت نہیں ہے۔بے حجابی اور دوستیاں بہت سی قباحتیں پیدا کر رہی ہیں ان سے بچنے کی ہمیں بہت کوشش کرنی چاہئے۔اس سے یہ بھی واضح ہو گیا کہ اگر عورتوں کو مردوں کے ساتھ سوئمنگ کی اجازت نہیں ہے تو مردوں کو بھی نہیں ہے کہ عورتوں میں جا کر سوئمنگ کریں۔پس یہ پابندیاں صرف عورت کے لئے نہیں بلکہ مرد کے لئے بھی ہیں۔مردوں کو اپنی نظریں عورتوں کو دیکھ کر نیچے کرنے کا حکم دے کر عورت کی عزت قائم کی گئی ہے۔پس اسلام کا ہر حکم حکمت سے پُر ہے اور برائیوں کے امکانات کو دور کرتا ہے۔( خطبہ جمعہ فرمودہ 13 جنوری 2017 بمقام مسجد بیت الفتوح ، لندن۔مطبوعہ افضل انٹرنیشنل 3 رفروری 2017ء) لڑکیوں کی سوئمنگ ( تیرا کی) کرنے کے بارہ میں نیشنل مجلس عاملہ لجنہ کی 120