پردہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 109 of 222

پردہ — Page 109

پرده باپ آدم نے اپنے آپ کو ڈھانکنے کی کوشش کی تھی جب شیطان نے اسے بہکایا تھا۔پس آدم کی اولاد کو ہمیشہ یادرکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کا خوف ، اس کی خشیت اور تقویٰ ہر وقت پیش نظر رہے گا اور استغفار اور تو بہ اور دعاؤں سے اس کی حفاظت کی کوشش کرتے رہو گے تو دنیا میں جو بے انتہا لغویات ہیں ان سے بھی بچ کر رہو گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں تقویٰ کو لباس کے نام سے موسوم کیا ہے، چنانچر لبَاسُ التَّقْوى قرآن شریف کا لفظ ہے یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ روحانی خوبصورتی اور روحانی زینت تقویٰ سے ہی پیدا ہوتی ہے اور تقویٰ یہ ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کی تمام امانتوں اور ایمانی عہد اور ایسا ہی مخلوق کی تمام امانتوں اور عہد کی حتی الوسع رعایت رکھے۔یعنی ان کے دقیق در دقیق پہلوؤں پر تا بمقدور کار بند ہو جاتے۔‘ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 210) یعنی گہرے سے گہرے مطلب، بار یک مطلب کو تلاش کرے اور پھر عمل کرنے کی کوشش کرے۔“ (خطبہ جمعہ فرموده 10 اکتوبر 2008 بمقام مسجد مبارک پیرس، فرانس مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 31 اکتوبر 2008ء) اسی طرح حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز احمدی خواتین کو لِباسُ التَّقوی کے بارے میں توجہ مبذول کراتے ہوئے فرماتے ہیں: بہر حال عورت کی زینت کی بات ہو رہی ہے اور لباسُ التَّقوی کی بات ہو رہی تھی کہ زینت جو ہے وہ تقویٰ کے لباس میں ہی ہے۔یعنی اس کا ہر فعل خدا تعالیٰ کے خوف اور اس کے احکامات پر عمل کرنے کو مد نظر رکھتے ہوئے ہو۔یہ نہ ہو کہ اپنی نفسانی خواہشات کو ترجیح دیتے ہوئے عمل ہور ہے ہوں۔پس اگر ہر احمدی عورت اس سوچ کے ساتھ اپنی زندگی گزار رہی ہوگی اور لباسُ التَّقْوی کے لئے 109