پردہ — Page 95
اسلامی تعلیم پر اعتراض کے حوالہ سے ہی اپنے ایک خطبہ جمعہ میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے احباب جماعت کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: اسلام کی تعلیم پر اعتراض کرنے والے کہتے ہیں کہ عورت کو حجاب اوڑھا کر، کا کہہ کر اس کے حقوق سلب کئے گئے ہیں اور اس سے کچے ذہن کی لڑکیاں جو ہیں بعض دفعہ متأثر ہو جاتی ہیں۔اسلام سے مراد جیل میں ڈالنا نہیں لیتا۔گھر کی چار دیواری میں عورت کو بند کرنا اس سے مراد نہیں ہے۔ہاں حیا کو قائم کرنا ہے۔“ ( خطبہ جمعہ فرمودہ 13 جنوری 2017 بمقام مسجد بیت الفتوح ، لندن۔مطبوعہ افضل انٹرنیشنل 3 فروری 2017ء) 66 پردے کا تشد د جائز نہیں اسلام میں پردے کا حکم نہایت اہمیت رکھتا ہے لیکن اس اسلامی حکم کی تعمیل کرنے اور کروانے کے سلسلہ میں کسی قسم کا تشد دجائز نہیں ہے۔کیونکہ پردے کا مقصد عورت کی غلامی نہیں بلکہ اُس کے وقار کو قائم رکھنا ہے۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے پردے میں عدم تشدد کی تعلیم کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات بار با پیش فرمائے ہیں۔ایک موقع پر فرمایا: حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: پردے کا اتنا تشد د جائز نہیں ہے۔۔۔۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ اگر بچہ رحم میں ہو تو کبھی مرد اس کو نکال سکتا ہے۔دین اسلام میں تنگی وحرج نہیں۔جو شخص خوامخواہ تنگی وحرج کرتا ہے وہ اپنی نئی شریعت بنا تا ہے۔گورنمنٹ نے بھی میں کوئی تنگی نہیں کی اور اب قواعد بھی بہت آسان بنا دیتے ہیں۔جو جو تجاویز و اصلاحات لوگ پیش کرتے ہیں گورنمنٹ انہیں توجہ سے سنتی اور ان پر مناسب اور مصلحت وقت کے مطابق عمل کرتی ہے۔ر پرده 95