پردہ — Page 94
پرده تو آزادی میں کیا کچھ نہ ہوگا۔“ فرمایا کہ : ”جب ہوتا ہے تو وہاں بھی بعض دفعہ ایسی باتیں ہو جاتی ہیں لیکن جب آزادی ملے گی تو پھر تو کھلی چھٹی مل جائے گی“۔پھر فرماتے ہیں کہ : ”مردوں کی حالت کا اندازہ کرو کہ وہ کس طرح بے لگام گھوڑے کی طرح ہو گئے ہیں۔نہ خدا کا خوف رہا ہے نہ آخرت کا یقین ہے۔دنیاوی لذات کو اپنا معبود بنا رکھا ہے۔پس سب سے اول ضروری ہے کہ اس آزادی اور بے پردگی سے پہلے مردوں کی اخلاقی حالت درست کرو۔اگر تمہارے خیال میں تم پاک دامن ہو بھی تو یہ ضمانت تم کہاں سے دے سکتی ہو کہ مردوں کی اخلاقی حالت بھی درست ہے۔اپنے پر دے اتارنے سے پہلے مردوں کے اخلاق کو درست کرلو، گارنٹی لے لو کہ ان کے اخلاق درست ہو گئے ہیں پھر ٹھیک ہے پردے اتار دو۔مگر یہ درست ہو جاوے اور مردوں میں کم از کم اس قدر قوت ہو کہ وہ اپنے نفسانی جذبات کے مغلوب نہ ہوسکیں تو اس وقت اس بحث کو چھیڑو کہ آیا ضروری ہے کہ نہیں۔ورنہ موجودہ حالت میں اس بات پر زور دینا کہ آزادی اور بے پردگی ہو گو یا بکریوں کو شیروں کے آگے رکھ دینا ہے۔“۔ایک جگہ آپ نے فرمایا ہے کہ بے ہو کر مردوں کے سامنے جانا اسی طرح ہے جس طرح کسی بھوکے گتے کے سامنے نرم نرم روٹیاں رکھ دی جائیں۔تو یہاں تک آپ نے الفاظ فرمائے ہوئے ہیں۔فرمایا کہ : ” کم از کم اپنے کانشنس (conscience) سے ہی کام لیں کہ آیا مردوں کی حالت ایسی اصلاح شدہ ہے کہ عورتوں کو بے اُن کے سامنے رکھا 66 جاوے۔‘ ( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 106-104۔جدید ایڈیشن ) خطاب از مستورات جلسہ سالانہ کینیڈا 25 جون 2005 ء۔مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 2 مارچ 2007ء ) 94