پردہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 73 of 222

پردہ — Page 73

پرده یورپ میں اب یہ پردے کا بڑا شور اٹھتا ہے۔فرمایا کہ یورپ کو دیکھو کہ کیا ہوتا ہے۔اب آپ دیکھ لیں، یہاں غیر ضروری آزادی کی وجہ سے کچھ عرصہ بعد ہی طلاقیں بھی ہوتی ہیں اور گھر بھی برباد ہوتے ہیں اور یہ نسبت مشرق کے مقابلے میں مغرب میں بہت بڑھی ہوئی ہے۔یہاں جو طلاقیں ہیں یا ایک عرصہ کے بعد گھر برباد ہوتے ہیں، مشرقی معاشرہ میں اتنے نہیں ہوتے یا ایسے معاشرے میں جہاں اسلام کی صحیح تصویر پیش کی جاتی ہے“۔( خطاب از مستورات جلسه سالانه سویڈن 17 ستمبر 2005ء - مطبوعہ افضل انٹرنیشنل 15 مئی 2015 ء ) اسی طرح ایک دوسرے موقع پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے احمدی خواتین سے مخاطب ہوتے ہوئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی روشنی میں اس مضمون کو تفصیل سے یوں بیان فرمایا: حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: یہ زمانہ ایک ایسا زمانہ ہے اگر کسی زمانے میں پردے کی رسم نہ ہوتی تو اس زمانے میں ضرور ہونی چاہیئے۔فرمایا کہ اگر کسی زمانے میں پردے کی ضرورت نہ بھی ہوتی تو اس زمانے میں ضرور ہونی چاہئے۔کیونکہ یہ کل جگ ہے۔یعنی آخری زمانہ ہے۔اور زمین پر بدی اور فسق و فجور اور شراب خوری کا زور ہے اور دلوں میں دہر یہ پن کے خیالات پھیل رہے ہیں۔اور خدا تعالیٰ کے احکام کی عظمت دلوں سے اُٹھ گئی ہے۔زبانوں پر سب کچھ ہے اور لیکچر بھی منطق اور فلسفہ سے بھرے ہوئے ہیں مگر دل روحانیت سے خالی ہیں۔ایسے وقت میں کب مناسب ہے کہ اپنی غریب بکریوں کو بھیڑیوں کے بنوں میں چھوڑ دیا جائے۔“۔مذکورہ بالا ارشاد پڑھنے کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہاں عورت کو بکریوں سے اور بھیڑیے کو گندہ معاشرے سے تشبیہ د 73