پردہ — Page 43
پرده کو توڑ رہی ہیں اور عہدیداروں سے لڑ رہی ہیں۔تو ان حرکتوں سے باز آنے کی 66 ضرورت ہے۔خطاب بر موقع نیشنل اجتماع لجنہ اماءاللہ یو کے 2 نومبر 2008ء مطبوعہ افضل انٹرنیشنل 10 جولائی 2015ء) حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے حیا اور غض بصر کی عادت اپنانے کے ساتھ ساتھ عورتوں کو اپنی خوبصورتی کو ظاہر نہ کرنے کی تلقین کرتے ہوئے نصیحت فرمائی کہ : اللہ تعالیٰ کے احکامات میں تو یہ ہے جیسا کہ میں نے بیان کیا کہ نظریں نیچی رکھو ، بے محابا عورت اور مرد آپس میں ایک دوسرے سے نظریں نہ ٹکرائیں۔ایک حیا ان میں ہونی چاہئے۔دوسرے اپنی زینت چھپاؤ۔ایسالباس ہو جس سے جسم کی نمائش نہ ہوتی ہو اور تیسرے یہ کہ اپنی زینت چھپانے کے لئے اپنے گریبانوں، سر، گردن اور سامنے کے حصوں کو ڈھانپ کر رکھو۔جو برقع پہننا ہے وہ ڈھیلا ڈھالا ہو۔جو میک آپ کر کے چہرہ نگا کر کے پھرتی ہیں وہ بھی زینت ظاہر کرنے کے زمرے میں آتی ہیں۔اسی طرح بالوں کی نمائش جو کرتی ہیں وہ بھی زینت ظاہر کرنے کے زمرے میں آتی ہیں کیونکہ وہ خود اپنے بالوں کی نمائش اسی لئے کر رہی ہوتی ہیں کہ یہ ہماری زمینت ہے۔خود سمجھ رہی ہوتی ہیں کہ اس سے ہماری خوبصورتی ظاہر ہو رہی ہے۔اس لئے سرڈھانکنا، چہرے کو کم از کم اس حد تک ڈھانکنا کہ چہرے کی نمائش نہ ہو رہی ہو اور لباس کو مناسب پہنا یہ کم از کم پر دہ ہے اور حضرت مسیح موعود 66 علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کی تلقین فرمائی ہے کہ کم از کم یہ معیار ہونا چاہئے۔“ ( خطاب از مستورات جلسہ سالانہ یو کے 30 جولائی 2010ء - مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 11 / مارچ 2011ء) 43۔۔۔*۔۔۔*۔۔۔