پردہ — Page 39
سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک خطاب میں احمدی مسلمان عورتوں اور بچیوں کو حقیقی رنگ میں حیا اور عصمت کی حفاظت کرنے کے اہمیت کے بارہ میں نہایت احسن رنگ میں یوں توجہ دلائی: ہ بعض لڑکیاں کہہ دیتی ہیں کہ ہم نے سر ڈھانک لیا ہے اور یہ کافی ہے لیکن سر اس طرح نہیں ڈھانکا ہوتا جس طرح اللہ اور اس کے رسول نے حکم دیا ہے۔بال صاف نظر آرہے ہوتے ہیں آدھا سر ڈھکا ہوتا ہے آدھا ننگا ہوتا ہے، گریبان تک نظر آرہا ہوتا ہے۔کوٹ اگر پہنا ہوا ہے تو کہنیوں تک بازو ننگے ہوتے ہیں۔گھٹنوں سے اوپر کوٹ ہوتے ہیں۔یہ نہ ہی ایک احمدی لڑکی اور عورت کی حیا ہے اور نہ ہی یہ ایک احمدی عورت کی آزادی کی حد ہے بلکہ اس ذریعہ سے اس طرح کی حرکتیں کر کے وہ اپنی حیا پر الزام لا رہی ہوتی ہیں اور بحیثیت احمدی اپنی آزادی کی حدود کو بھی توڑ رہی ہوتی ہیں۔پس ہمیشہ ایک احمدی عورت کو جس کا ایک تقدس ہے یا درکھنا چاہئے کہ آپ کی حدود کا ایک دائرہ ہے اس حدود کے دائرے سے تجاوز کرنا آپ کے تقدس کو مجروح کرتا ہے۔۔۔پس ہمیشہ ایک احمدی لڑکی ایک احمدی عورت کو یاد رکھنا چاہئے کہ اس کا ایک تقدس ہے، اس کا ایک مقام ہے جس کو قائم رکھنا ہر دوسری خواہش سے زیادہ ضروری ہے۔اپنی عزت کی حفاظت اور اپنے خاندان کی عزت کی حفاظت ایک احمدی عورت اور لڑکی کے لئے سب سے زیادہ اہم چیز ہے اور ہونی چاہئے۔ایک احمدی عورت اور بچی کی عصمت کی قیمت ہزاروں لاکھوں جواہرات سے زیادہ قیمتی ہے۔پس اس کی حفاظت کرنا اور اس کی حفاظت کے طریق جاننا ایک احمدی عورت اور لڑکی کے لئے انتہائی ضروری چیز ہے بلکہ فرض ہے۔پس پرده 39