پردہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 34 of 222

پردہ — Page 34

پرده فیشن میں اتنا آگے نہ بڑھیں کہ اپنا مقام بھول جائیں ایسی حالت نہ بنائیں کہ دوسروں کی لالچی نظریں آپ پر پڑنے لگیں۔یہاں کیونکہ مختلف مذاہب اور کلچر کے لوگ آباد ہیں اور چھوٹی سی جگہ ہے اس لئے آپس میں گھلنے ملنے کی وجہ سے بعض باتوں کا خیال نہیں رہتا۔لیکن احمدی خواتین کو اور خاص طور پر احمدی بچیوں کو اور ان بچیوں کو جو کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھ رہی ہیں اپنی انفرادیت قائم رکھنی ہے۔ان میں اور دوسروں میں فرق ہونا چاہئے ، ان کے لباس اور حالت ایسی ہونی چاہئے کہ غیر مردوں اور لڑکوں کو ان پر بری نظر ڈالنے کی جرات نہ ہو۔روشن خیالی کے نام پر احمدی بچی کی حالت ایسی نہ ہو کہ ایک احمدی اور غیر احمدی میں فرق نظر ہی نہ آئے۔“ خطاب از مستورات جلسه سالانه ماریشس 3 دسمبر 2005ء مطبوع الفضل انٹرنیشنل 29 مئی 2015 ء ) حیا کے ایمان کا حصہ ہونے سے متعلق اسلامی تعلیمات کے حوالے سے حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے احمدی خواتین کو یہ واضح ہدایت فرمائی ہوئی ہے کہ نامناسب لباس میں کام کرنے کی مجبوری ہو تو دین کو دنیا پر مقدم رکھتے ہوئے ایسے کام کورڈ کر دینا چاہئے۔چنانچہ ایک موقع پر حضور انور نے فرمایا: اب بھی ایک اسلامی حکم ہے قرآنِ کریم میں بڑی وضاحت کے ساتھ اس کا ذکر ہے۔نیک عورتوں کی نشانی یہ بتائی گئی ہے کہ وہ حیادار اور حیا پر قائم رہنے والی ہوتی ہیں ، حیا کو قائم رکھنے والی ہوتی ہیں۔اگر کام کی وجہ سے آپ اپنی حیا کے لباس اُتارتی ہیں تو قرآن کریم کے حکم کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔اگر کسی جگہ کسی ملازمت میں یہ مجبوری ہے کہ جینز اور بلاؤز پہن کر سکارف کے بغیر ٹوپی پہن کر کام کرنا ہے تو احمدی عورت کو یہ کام نہیں کرنا چاہئے۔جس لباس سے آپ کے ایمان پر زد آتی ہو اس کام کو آپ کو لعنت بھیجتے ہوئے رڈ کر دینا چاہئے کیونکہ حیا ایمان کا حصہ 34