پردہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 209 of 222

پردہ — Page 209

۔۔۔احمدیت کی سچائی کا ایک نشان یہ بھی ہے کہ بیعت کرنے کے ساتھ ہی بیعت کرنے والے کی اخلاقی حالت میں بھی تبدیلی واقع ہونے لگتی ہے۔اس ضمن میں ج ہونے لگتی ہے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: مراکش کی ایک خاتون فاہمی صاحبہ ہیں، وہ کہتی ہیں لقاء مع العرب کے ذریعہ سے تعارف ہوا۔۔۔۔چنانچہ میں نے استخارہ شروع کیا اور (ایک) رؤیا کے بعد میں نے کہا: اب جو ہونا ہے ہو جائے۔اب مجھے کسی چیز کی پرواہ نہیں ہے۔چنانچہ میں نے فوراً بیعت کرلی اور بیعت کے ساتھ ہی کرنا بھی شروع کر دیا۔“ خطبہ جمعہ فرمودہ 28 مارچ 2014 ء بمقام مسجد بیت الفتوح ، لندن۔مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 18 / اپریل 2014ء) محترمه الحاجہ سٹر نعیمہ لطیف صاحبہ (اہلیہ مکرم الحاج جلال الدین لطیف صاحب صدر جماعت زائن۔امریکہ کی وفات پر اُن کا ذکر خیر کرتے ہوئے حضور انور نے فرمایا: سسٹر نعیمہ لطیف 21 رمئی 1939ء کو ایک عیسائی گھرانے میں پیدا ہوئیں۔آپ نے ویسٹ ورجینیا یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کر کے امریکن آرمی کے شعبہ میڈیکل میں رضا کارانہ طور پر کام شروع کیا۔۔۔۔1974ء میں احمدیت قبول کی اور خود مطالعہ کر کے بڑی تیزی سے ایمان و اخلاص میں ترقی کی۔۔۔۔اپنی زندگی میں کبھی نماز جمعہ نہیں چھوڑی۔جماعتی پروگراموں میں باقاعدگی سے شامل ہونے والی تھیں۔رمضان کے روزے کبھی نہیں چھوڑے۔اس کے علاوہ سنت نبوی پر عمل کرتے ہوئے باقاعدگی سے ہفتہ وار نفلی روزے بھی رکھتی تھیں۔اعتکاف میں بیٹھنے کا بھی انہیں موقع ملتا رہا۔خدمت خلق کے کاموں میں پیش پیش تھیں۔۔۔۔حج بیت اللہ کی سعادت پائی۔۔۔۔مالی قربانی میں پیش پیش رہتیں۔جب بھی کوئی زیور آپ کے میاں کی طرف سے تحفہ ملتا تو مساجد کے لئے چندہ میں دے دیتیں۔۔۔۔خلافت پرده 209