پردہ

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 200 of 222

پردہ — Page 200

پرده پھر ایک عام تبلیغ ہے۔لیف لیٹنگ (leafleting) کی جو سکیم ہے اس میں عورتوں کو حصہ لینا چاہیئے۔لیکن مردوں کے ساتھ نہیں۔یو کے والوں نے اس طرح تقسیم کیا ہے کہ چھوٹے پرائمری اسکولوں میں اور گھروں میں عورتوں کی ذمہ داری ڈالی ہے وہ جا کے کرتی ہیں اور اگر بڑی جگہوں پر جانا ہو تو فیملی کی ذمہ داری ہوگی۔ایک پوری فیملی مرد ، عورت اکٹھے ہو کر جائیں۔غیر رشتہ دار مردا کٹھے نہ ہوں بلکہ رشتہ دارا کٹھے ہوں۔یا صرف عورتوں کی ذمہ داری ہو کہ ان کے سپر دصرف پرائمری اسکول ہوں ، چرچ ہوں یا ایسا حصہ چرچ کا جس میں عورتیں جاتی ہیں یا جب ان کے فنکشن ہورہے ہوتے ہیں، یا گھروں میں واقفیت پیدا کر کے، یا میل بکس میں ڈالنے کے لئے ، تو بہر حال یہ خیال رکھیں کہ عورتوں نے تبلیغ کے لئے اپنا علیحدہ انتظام کرنا ہے مردوں کے ساتھ مل کر نہیں کرنا۔گو کام وہی کرنا ہے لیکن علیحدہ ہونا چاہئے۔“ سیکرٹری تبلیغ نے مختلف اخبارات و رسائل میں articles لکھوانے کے متعلق بتایا تو حضور انور نے فرمایا: ”جو طالبات کی اسٹوڈنٹ آرگنائزیشن ہے اس کو active کریں“۔صدر صاحبہ لجنہ نے عرض کیا کہ یہاں مخلوط تعلیم اتنی ہے کہ یونیورسٹی میں اگر ہماری بچیاں کوئی پروگرام منعقد کرتی ہیں تو وہاں ہر حالت میں لڑکے بھی آتے ہیں۔اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ : ٹھیک ہے لڑکے آتے ہیں تو اگر حجاب کے اندر رہ کر اسلام کے اوپر لیکچر دینا پڑے تو دیں۔کوئی حرج نہیں۔لڑکیاں اپنے اسٹوڈنٹس کے ساتھ ہی آئیں گی اور وہ ان کے ساتھ ویسے بھی پڑھ رہی ہیں۔اگر میں رہ کر اسلام پر لیکچر دیں تو اپنی حالتوں کی طرف بھی توجہ پیدا ہو جائے گی۔لیکن یہ نہ ہو کہ کھلی چھٹی مل جائے۔مرکز کی طرف سے کنٹرول ہونا چاہئے۔یہ نہ ہو کہ اونٹ کی طرح سر رکھنے کا موقع دیں 200